قومی زبان

اسے کب سے یہی سمجھا رہا ہوں

اسے کب سے یہی سمجھا رہا ہوں ترا ہی تھا میں جب تیرا رہا ہوں مجھے فرصت دبوچے جا رہی ہے میں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوں کوئی بھی روکنے والا نہیں ہے خموشی سے گزرتا جا رہا ہوں مری تشنہ لبی پر ہنسنے والے گزشتہ وقت میں دریا رہا ہوں وہ غلطی جو کبھی کی ہی نہیں ہے اسی غلطی پہ میں پچھتا رہا ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر ایسے گیا ہے چھوڑنے والا مجھے

چھوڑ کر ایسے گیا ہے چھوڑنے والا مجھے دوستو اس نے کہیں کا بھی نہیں چھوڑا مجھے بول بالا اس قدر خاموشیوں کا ہے یہاں کاٹنے کو دوڑتا ہے میرا ہی کمرہ مجھے ہاں وہی تصویر جو کھینچی تھی میں نے ساتھ میں ہاں وہی تصویر کر جاتی ہے اب تنہا مجھے بات تو یہ بعد کی ہے کچھ بنوں گا یا نہیں کوزہ گر ...

مزید پڑھیے

یہ محبت اگر ضرورت ہے

یہ محبت اگر ضرورت ہے یہ ضرورت بھی تو محبت ہے میرا بھی دل نہیں تھا رکنے کا اس نے بھی کہہ دیا اجازت ہے شاعروں کی نظر سے مت دیکھو دنیا دراصل خوب صورت ہے تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ میری قربت اگر مصیبت ہے لوٹ آیا مرا اکیلا پن اب کسی کی کہاں ضرورت ہے عکسؔ بے حد نصیب والے ہو تم کو مرنے ...

مزید پڑھیے

ہرگز کسی بھی طور کسی کے نہ ہو سکے

ہرگز کسی بھی طور کسی کے نہ ہو سکے ہم اس کے بعد اور کسی کے نہ ہو سکے آیا تھا ایسا دور سبھی کے ہوئے تھے ہم پھر آیا ایسا دور کسی کے نہ ہو سکے افسوس تم کو اتنی بھی فرصت نہیں ملی تم مجھ پہ کرتے غور کسی کے نہ ہو سکے یعنی ہم عمر بھر رہے برباد خود میں ہی یعنی ٹھکانہ ٹھور کسی کے نہ ہو ...

مزید پڑھیے

عمر بھر سینہ میں اک درد دبائے رکھا

عمر بھر سینہ میں اک درد دبائے رکھا ایک بے نام سے رشتہ کو نبھائے رکھا تھا مجھے وہم و گماں کہ وہ فقط میری ہے اور اس نے بھی بھرم میرا بنائے رکھا آندھیاں شرم سے ہو جائیں نہ پانی پانی سر یہی سوچ کے پیڑوں نے جھکائے رکھا ویسے ہر بات سے رکھا اسے واقف ہم نے لیکن افسانۂ الفت کو چھپائے ...

مزید پڑھیے

دن رات اس کے ہجر کا دیمک لگے لگے

دن رات اس کے ہجر کا دیمک لگے لگے دل کے تمام خانے مجھے کھوکھلے لگے محفل میں نام اس کا پکارا گیا تھا اور سب لوگ تھے کہ میری طرف دیکھنے لگے افسوس فکر جاں ہی نہیں رہتی ہے ہمیں افسوس آپ جان ہمیں ماننے لگے جو کہتے تھے کوئی تجھے ٹھکرا نہ پائے گا جب بات خود پہ آئی تو وہ سوچنے لگے میں آج ...

مزید پڑھیے

وصال ایسے بھی مہنگا پڑے گا دونوں کو

وصال ایسے بھی مہنگا پڑے گا دونوں کو بچھڑنے کے لیے ملنا پڑے گا دونوں کو پھر ایسے ترک تعلق کا فائدہ کیا ہے جب ایک کمرے میں رہنا پڑے گا دونوں کو اب اس کہانی کو اک موڑ کی ضرورت ہے اب اس کہانی میں مرنا پڑے گا دونوں کو یہ جان کر بھی تعلق بڑھانا ٹھیک نہیں کہ اگلے سال بچھڑنا پڑے گا ...

مزید پڑھیے

قفس کے ہوش اڑتے جا رہے تھے

قفس کے ہوش اڑتے جا رہے تھے پرندے پر کترتے جا رہے تھے خموشی شور کرتی جا رہی تھی سو ہم چینل بدلتے جا رہے تھے ادھر بھی زندگی بس کٹ رہی تھی ادھر بھی پیڑ گرتے جا رہے تھے نہ جانے ذہن میں کیا چل رہا تھا سبھی کو کال کرتے جا رہے تھے ہماری جان بھی گروی پڑی تھی ہمارے لوگ مرتے جا رہے ...

مزید پڑھیے

اگر جو پیار خطا ہے تو کوئی بات نہیں

اگر جو پیار خطا ہے تو کوئی بات نہیں قضا ہی اس کی سزا ہے تو کوئی بات نہیں تو صرف میری ہے اس کا غرور ہے مجھ کو اگر یہ وہم مرا ہے تو کوئی بات نہیں معاف کرنے کی عادت نہیں ہے ویسے تو اگر یہ تیر ترا ہے تو کوئی بات نہیں بنا بدن کے تعلق بچا نہیں سکتے یہی جو رستہ بچا ہے تو کوئی بات ...

مزید پڑھیے

اگرچہ سب یہاں سستا پڑے گا

اگرچہ سب یہاں سستا پڑے گا تمہیں بس عشق ہی مہنگا پڑے گا مصور سے الجھنے کی سزا ہے ہمیں تصویر میں رہنا پڑے گا مری آنکھوں میں تم بچ کر اترنا یہاں اشکوں کا اک دریا پڑے گا سبھی کردار گر رکھنے ہیں زندہ کہانی میں ہمیں مرنا پڑے گا تمہیں بھی اچھے ہم لگنے لگے ہیں سنو تم کو بھی پچھتانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5408 سے 6203