قومی زبان

نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں

نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں شروع میں تو سبھی الٹا سیدھا بولتے ہیں خدا کرے کہ کبھی بات بھی نہ کر پائیں یہ جتنے لوگ تیرے آگے اونچا بولتے ہیں اسے کہا تھا کہ لوگوں سے گفتگو نہ کرے اب اس کے شہر کے سب لوگ میٹھا بولتے ہیں کسی سے بولنا باقاعدہ نہیں سیکھا بس ایک روز یوں ہی خود سے ...

مزید پڑھیے

نہ مشک بو ہے نہ ہے زعفران کی خوشبو

نہ مشک بو ہے نہ ہے زعفران کی خوشبو حریم جاں میں ہے اک مہربان کی خوشبو میں دیکھتی ہی نہیں خواب اونچے محلوں کے مجھے پسند ہے کچے مکان کی خوشبو اسی زمین میں اک دن پناہ لینی ہے کہ اس زمین میں ہے آسمان کی خوشبو کہیں بھی جاؤں مرے ساتھ ساتھ رہتی ہے کسی کی یاد کسی کے دھیان کی خوشبو مرے ...

مزید پڑھیے

محبت سے وقار زندگی ہے

محبت سے وقار زندگی ہے یہی تو اعتبار زندگی ہے وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیں انہی پر انحصار زندگی ہے محبت سے کوئی جب مسکرا دے تو ہر لمحہ بہار زندگی ہے کسی کی یاد تنہائی کا عالم جدا سب سے شعار زندگی ہے ہنسی کے ساتھ بھیگ اٹھتی ہیں پلکیں غم بے اختیار زندگی ہے تمہارے قرب کی معراج پا ...

مزید پڑھیے

مرے ہزار غموں کا حساب کون لکھے

مرے ہزار غموں کا حساب کون لکھے میں اک کہانی ہوں مجھ پر کتاب کون لکھے گناہ لکھتے رہے میری آہ کو لیکن جو اشک دل میں ہیں ان کو ثواب کون لکھے تمہاری یاد نہیں اک عذاب ہے گویا مگر تمہارے کرم کو عذاب کون لکھے ہم اپنے زخم جگر کو چھپائے بیٹھے ہیں تمہارے چہرے کو تازہ گلاب کون لکھے مرا ...

مزید پڑھیے

جسے محبوب خود داری بہت ہے

جسے محبوب خود داری بہت ہے اسے جینے میں دشواری بہت ہے یوں ہی اجڑا ہوا رہنے دو مجھ کو سنورنا دل پہ اب بھاری بہت ہے نہ جائے کوچۂ مہر و وفا میں وہ جس کو زندگی پیاری بہت ہے بہت تڑپا لیا اب آ بھی جاؤ طبیعت درد سے بھاری بہت ہے چل اے دل اک نئی دنیا بسائیں یہاں نفرت کی بیماری بہت ...

مزید پڑھیے

مرے بچے جوان ہو گئے ہیں

جو میری گود میں پل کر جوان ہو گئے ہیں مرے سفینے کے اب بادبان ہو گئے ہیں وہ جن پہ نیل ابھرتے تھے ہاتھ لگتے ہی وہ پھول جیسے بدن اب چٹان ہو گئے ہیں وہ جن کو سینچا تھا میں نے اب ان کے سائے میں ہوں کہ اب وہ ننھے شجر سائبان ہو گئے ہیں وہ دیکھ بھال میں جن کی گزر گئی مری عمر خدا کا شکر مرے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے روٹھا ہے کیا کیا جائے

مجھ سے روٹھا ہے کیا کیا جائے وہ بھی اپنا ہے کیا کیا جائے ہو کھلونا تو دوسرا لے لوں دل جو ٹوٹا ہے کیا کیا جائے دل کے نشتر چھپا تو لوں لیکن سرخ آنکھوں کا کیا کیا جائے اس کی محفل کو چھوڑ آئی ہوں اب وہ تنہا ہے کیا کیا جائے اس کی حالت پہ دل لرزتا ہے غم میں ہنستا ہے کیا کیا جائے بات ...

مزید پڑھیے

زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے

زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے موت چپکے سے دبے پاؤں چلی جاتی ہے لوگ ہنستے ہوئے چہرے کو پڑھا کرتے ہیں حالت دل پہ کہاں کن کی نظر جاتی ہے صبح پھر دل میں اک امید جگا دیتی ہے شام پھر یوں ہی تماشوں میں گزر جاتی ہے دن تری یادوں کے سائے میں بدل جاتا ہے رات پھر غم کے اندھیروں میں گزر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لفظ ہے زندہ علامتوں سے تری

ہر ایک لفظ ہے زندہ علامتوں سے تری مری غزل کی یہ قامت نزاکتوں سے تری ترے بغیر تو بے سمت تھی مسافت عمر مرا سفر ہوا آساں رفاقتوں سے تری اب اس میں تیری مری خامشی ہی بہتر ہے کہ بات پھیل گئی ہے وضاحتوں سے تری مرے رفیق مرے اس قدر خلاف نہ تھے یہ اختلاف بڑھا ہے حمایتوں سے تری تری طلب کے ...

مزید پڑھیے

دسمبر کی دھوپ

اگر مرے لفظ تیری آنکھوں سے اشک بن کر گرے نہیں ہیں اگر مرے لفظ تیرے ہونٹوں پہ گیت بن کر کھلے نہیں ہیں اگر مرے لفظ نارسا ہیں کہ میری پلکوں کی ٹہنیوں سے مرے لہو کا کوئی بھی پتہ تری نیلی سی نیند کی جھیل کے بدن پر گرا نہیں ہے وہ دائرہ ہی بنا نہیں ہے میں جس میں جڑتے ادھڑتے رشتوں کو ڈھونڈ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5268 سے 6203