قومی زبان

یہ جاڑے کے دن

یہ جاڑے کے دن اور یہ جاڑوں کی راتیں لحاف اور سوٹر کی ہر گھر میں باتیں ادھر کوئی اوڑھے ہوئے ہے دوشالہ کسی نے ادھر اپنا کمبل سنبھالا انگیٹھی کہیں ہے کہیں ہے رضائی مچی ہر طرف سردیوں کی دہائی کچھ اس طرح چلتی ہیں ٹھنڈی ہوائیں کہ سردی سے سینوں میں دل کانپ جائیں عجب طرح ٹھٹھرا ہوا ہے ...

مزید پڑھیے

مشورہ

صبح سو کر جو اٹھو چائے پیو اور پھر اخبار پڑھو امن کی صفحۂ اول پہ لکھی ہیں باتیں چند لفظوں کی حسیں سوغاتیں قتل ہونا تھا جنہیں وہ تو سبھی قتل ہوئے اور جو بچ گئے جو زندہ رہے قسمت سے ایک دن ان کو بھی مرنا ہوگا اسی رستے سے گزرنا ہوگا دن میں مصروف رہو پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کام دفتر ...

مزید پڑھیے

''دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی''

''دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی'' اک غزل میں نے بھی کہی ہے ابھی چھوڑ دوں میں ابھی وزارت کیوں اک تجوری فقط بھری ہے ابھی چور ڈاکو پہنچ گئے پہلے جبکہ بستی نہیں بسی ہے ابھی بینک سے لی تھی لیز پر گاڑی بیچ کر قسط اک بھری ہے ابھی چھوڑ سکتی نہیں ابھی وہ مجھے ایک کوٹھی مری بچی ہے ...

مزید پڑھیے

اور بھی کچھ ہو عنایت کے لئے

اور بھی کچھ ہو عنایت کے لئے زندگی کم ہے محبت کے لئے ٹھیک ہے حسن پرستی بھی مگر کوئی چہرہ نہیں نفرت کے لئے رات دن کام پڑے رہتے ہیں وقت ملتا نہیں فرصت کے لئے ظلم کے شہر میں انصاف کہاں منتظر ہم ہیں قیامت کے لئے وہ تکلف ہی سے ملتا ہے ہمیں دل مچلتا ہے شرارت کے لئے لوگ کرتے ہیں وفا کا ...

مزید پڑھیے

بھری ہے تیر کے اونچی اڑان پانی میں

بھری ہے تیر کے اونچی اڑان پانی میں گو مچھلیوں کا ہو اک آسمان پانی میں اتر رہی ہے ترے تن سے جھیل میں بجلی نکل نہ جائے کہیں میری جان پانی میں تماشبین تھی جنتا تماشبین رہی نگر کے ڈوب گئے سب مکان پانی میں جمی ہوئی ہے یہ ندی پگھل بھی جانے دو اتر کے آؤ کبھی میری جان پانی میں میں جل ...

مزید پڑھیے

لباس چاک بدن جھانکتا یہ آدھا ہے

لباس چاک بدن جھانکتا یہ آدھا ہے یہی کفن ہے ہمارا یہی لبادہ ہے کہیں پہ خواہشوں کی کوئی انتہا ہی نہیں تو کوئی ایک نوالے میں دن بتاتا ہے نیا نظام نئی نسل اور نئے وعدے ہر ایک نسل کے حصہ میں صرف وعدہ ہے جو بات فرض ہے اس کے فقط نبھانے پر سکون کم ہے دلوں میں گماں زیادہ ہے لٹے ہوئے ہم ...

مزید پڑھیے

ان بیابانوں میں بستا تھا نگر پہلے کبھی

ان بیابانوں میں بستا تھا نگر پہلے کبھی بے گھروں کا بھی ہوا کرتا تھا گھر پہلے کبھی خوب سے بھی خوب صورت پھول اس گلشن میں ہیں آپ سا دیکھا نہیں ہم نے مگر پہلے کبھی اس کی گودی میں کسی بچہ سا سر کو رکھ دیا ویسے تو جھکتا نہیں تھا اپنا سر پہلے کبھی اس کے پیراہن یقیناً کھونٹیوں پر ہیں ...

مزید پڑھیے

بس اک سوال پہ جینا محال ہے میرا

بس اک سوال پہ جینا محال ہے میرا سوال کیوں نہ کروں یہ سوال ہے میرا کچھ اس لئے بھی ہر اک سے میری نہیں بنتی ضمیر زندہ ہے اور خون لال ہے میرا میں تجھ کو چھو کے بہت دور ہو گیا تجھ سے کہ یہ عروج سے کیسا زوال ہے میرا ملال یہ نہیں مجھ کو تو میری ہو نہ سکی میں تیرا ہو نہ سکا یہ ملال ہے ...

مزید پڑھیے

نہ کھونا اور نہ پانا چاہیے تھا

نہ کھونا اور نہ پانا چاہیے تھا مجھے کچھ درمیانہ چاہیے تھا مرے آگے تھے دنیا کے سوالات تمہیں ہی آگے آنا چاہیے تھا ملے بے باک جیسے کچھ نہیں ہو ذرا سا ہچکچانا چاہیے تھا غزل میں کہہ چکا تھا جب تم آئے تمہیں مطلع میں آنا چاہیے تھا سمے کے ساتھ بھر جاتا ہے ہر زخم سمے سے بھاگ جانا چاہیے ...

مزید پڑھیے

اک خواب مسلسل تھا کہ کھلتا ہی نہیں تھا

اک خواب مسلسل تھا کہ کھلتا ہی نہیں تھا کیا پیڑ تھا جس کا کوئی سایہ ہی نہیں تھا وہ درد اٹھا آج کہ دل بیٹھ رہا ہے کشتی ہوئی تیار تو دریا ہی نہیں تھا ماتھے پر شکن کوئی نہ احساس ندامت وہ کٹتے سروں کو کبھی گنتا ہی نہیں تھا اب جان پے بن آئی تو احساس ہوا ہے جو دیکھ رہے تھے وہ تماشا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5214 سے 6203