قومی زبان

فکر میری خیال میرا ہے

فکر میری خیال میرا ہے نام ان کا کمال میرا ہے چڑھتا سورج عروج ہے ان کا ڈھلتا سایہ زوال میرا ہے فرق اتنا ہے ان کے میرے بیچ پھول ان کے نہال میرا ہے آ چلا ہے یقین برسوں بعد یہ مہینے یہ سال میرا ہے اس میں حالات کا قصور نہیں دوش پہ سر و بال میرا ہے کیوں زمیں تنگ ہے غریبوں پر آسماں سے ...

مزید پڑھیے

وہ محبت نہ سہی درد محبت ہی سہی

وہ محبت نہ سہی درد محبت ہی سہی کچھ تو مل جائے ہمیں آپ کی نفرت ہی سہی دست قدرت کا بنایا ہوا شہکار تو ہے آدمی آج کا اک حرف ملامت ہی سہی ان کی قسمت میں سمندر کا سکوں لکھا ہے اپنی تقدیر میں صحراؤں کی وحشت ہی سہی شہر میں تیرے تھکے پاؤں مسافر کے لئے دو گھڑی بیٹھ کے دم لینے کی فرصت ہی ...

مزید پڑھیے

صحراؤں کی پیاس بجھانے

صحراؤں کی پیاس بجھانے کب آئے برسات نہ جانے مجھ کو میری یاد دلانے آئے ہیں کچھ دوست پرانے جانے گھر کس کس کے جلیں گے نکلے ہیں وہ جشن منانے خوابوں کی وادی میں ملے ہیں بیتے لمحے گزرے زمانے وقت کے ٹوٹے آئینے میں چہرے ہیں سب جانے پہچانے تم سے ملے تو یاد آیا ہے دیکھے تھے کچھ خواب ...

مزید پڑھیے

اس طرح دل میں تری یاد کے پیکر آئے

اس طرح دل میں تری یاد کے پیکر آئے جیسے اجڑی ہوئی بستی میں پیمبر آئے ذات کے غم تھے کہ حالات کے جلتے سائے بڑھتے بڑھتے جو مرے قد کے برابر آئے اوڑھ لی میں نے تری یاد کی چادر اے دوست جب بھی سر پر مرے حالات کے پتھر آئے کبھی ایسا بھی ہو دل میں یہ خیال آتا ہے زخم اوروں کے لگے آنکھ مری بھر ...

مزید پڑھیے

ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں

ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دیکھ رہے ہیں پھولوں میں بھی کانٹوں کی ادا دیکھ رہے ہیں راہوں میں بھٹک جاتے ہیں کس طرح مسافر منزل پہ کھڑے راہنما دیکھ رہے ہیں تاریخ کے چہرے سے نئے دور کے ہاتھوں مٹتی ہوئی تحریر وفا ...

مزید پڑھیے

چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے

چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے اپنے سائے پہ بھی قاتل کا گماں ہے اب کے جو کبھی شہر میں خورشید بکف بھرتا تھا کوئی بتلائے کہ وہ شخص کہاں ہے اب کے کہکشاں لفظوں کی ہونٹوں پہ بکھرنے دیجے دور تک ذہن کی گلیوں میں دھواں ہے اب کے لوگ آنکھوں میں نئے خواب لئے پھرتے ہیں کچھ نہ ہونے پہ ...

مزید پڑھیے

ترا خیال تھا لفظوں میں ڈھل گیا کیسے

ترا خیال تھا لفظوں میں ڈھل گیا کیسے دلوں میں شمع غزل بن کے جل گیا کیسے وہ آدمی جو مرا دوست تھا زمانے تک پتہ نہیں کہ یکایک بدل گیا کیسے بہت ہی تیز ہوا شعر حادثات کی تھی میں گرتے گرتے نہ جانے سنبھل گیا کیسے کہیں بھی آگ لگانے کا واقعہ نہ ہوا تو پھر حضور مکاں میرا جل گیا کیسے خلش ...

مزید پڑھیے

اس دور سے خلوص محبت وفا نہ مانگ

اس دور سے خلوص محبت وفا نہ مانگ صحرا سے کوئی سایہ کوئی آسرا نہ مانگ پتوں کے قہقہوں میں صدائے بکا نہ ڈھونڈ جنگل میں رہ کے شہر کی آب و ہوا نہ مانگ سمجھوتہ کر کے وقت سے چپ چاپ بیٹھ جا قاتل سے زندگی کے ابھی خوں بہا نہ مانگ اپنے خدا سے سلسلۂ گفتگو نہ توڑ ہو جائے جو قبول تو ایسی دعا نہ ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

تم مرے قتل کے بعد اپنی محفل تو سجاؤ گے مگر مجھ کو نہیں پاؤ گے پھر کسے دیکھ کے شرماؤ گے یہ بھی سوچا کہ تمہیں میرے بعد رات کے پچھلے پہر کون صدائیں دے گا تم کو جینے کی دعائیں دے گا جب میری یاد ستائے گی تمہیں نیند نہ آئے گی تمہیں تم نہ پا کر مجھے پچھتاؤ گے اپنے ہی آپ سے شرماؤ گے

مزید پڑھیے

شہر نگاراں

حیدرآباد جسے شہر نگاراں کہیے رنگ رخسار سحر حسن بہاراں کہیے کسی شاعر کے خیالوں کی حسین دنیا ہے گلعذاروں کی غزالوں کی حسیں دنیا ہے اس کی مٹی میں محبت کے کنول کھلتے ہیں ذرہ ذرہ میں دھڑکتے ہوئے دل ملتے ہیں اس کے سینے میں قطب شاہ کا کردار بھی ہے وضع داری بھی ہے اخلاص بھی ہے پیار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5213 سے 6203