ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے
ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے آنکھوں میں ندی لیکن ہاتھوں میں کنارہ ہے دو چار قدم چل کر دو چار گھڑی رکنا منزل بھی تمہاری ہے رستہ بھی تمہارا ہے پلکوں کے نشیمن سے ہونٹوں کے گلستاں تک کچھ حسن تمہارا ہے کچھ عشق ہمارا ہے پھولوں کے مہکنے کا کوئی تو سبب ہوگا یا زلف پریشاں ہے یا ...