کہکشاں
حضرت انساں کی خاطر ہی بنی ہے کہکشاں بچو لاکھوں سال پہلے سے سجی ہے کہکشاں کہکشائیں کتنی ہیں لکھنے سے عاجز ہے قلم کہکشاؤں کی کبھی گنتی نہیں کر سکتے ہم کہکشاؤں میں نظر آئے ستاروں کا ہجوم سورجوں کی کہکشاؤں میں مچی رہتی ہے دھوم کہکشائیں دو بڑی ہیں کر لو بچو ان کو یاد دودھیا پٹی بڑی ہے ...