قومی زبان

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا فنا کے رنگ سے ہر رنگ متصل ہوگا عجب ہے عشق عجب تر ہیں خواہشیں اس کی کبھی کبھی تو بچھڑنے تلک کو دل ہوگا بدن میں ہو تو گلہ کیا تماش بینی کا یہاں تو روز تماشا و آب و گل ہوگا ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ...

مزید پڑھیے

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے یہ کس کے عکس ہیں تنہائیوں میں پڑتے ہوئے عجیب دشت ہے اس میں نہ کوئی پھول نہ خار کہاں پہ آ گیا میں تتلیاں پکڑتے ہوئے مری فضائیں ہیں اب تک غبار آلودہ بکھر گیا تھا وہ کتنا مجھے جکڑتے ہوئے جو شام ہوتی ہے ہر روز ہار جاتا ہوں میں اپنے جسم کی ...

مزید پڑھیے

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی صبح جب رات کی گلیوں میں بھٹکتی ہوئی آئی دیدۂ خشک میں اک ماہیٔ بے آب تھی نیند چشمۂ خواب تلک آئی پھڑکتی ہوئی آئی اور پھر کیا ہوا کچھ یاد نہیں ہے مجھ کو ایک بجلی تھی کہ سینہ میں لپکتی ہوئی آئی آج کیا پھر کسی آواز نے بیعت مانگی یہ مری خامشی ...

مزید پڑھیے

شوق ثواب کچھ نہیں خوف عذاب کچھ نہیں

شوق ثواب کچھ نہیں خوف عذاب کچھ نہیں جس میں نہ جوش جہد ہو اس کا شباب کچھ نہیں زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں نغمۂ نو کے واسطے غیر کی احتیاج کیا چھیڑ دے تار ساز دل چنگ و رباب کچھ نہیں صاف دلوں کے واسطے تنگ ہے عرصۂ حیات ذات حباب خوب ہے عمر ...

مزید پڑھیے

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو دوست دشمن سے ملتے ملاتے رہو یہ اندھیرے ہیں مہمان اک رات کے تم مگر صبح تک جگمگاتے رہو میں بھلانے کی کوشش کروں گا تمہیں تم مجھے روز و شب یاد آتے رہو راہ کے پیچ و خم خود سلجھ جائیں گے سوئے منزل قدم کو بڑھاتے رہو ابر بن کر برستے رہو ہر طرف عمر شادابیوں ...

مزید پڑھیے

یہ مہکتے ہوئے جذبات یہ اشعار کے پھول

یہ مہکتے ہوئے جذبات یہ اشعار کے پھول کاش کام آئیں کسی کے مرے افکار کے پھول میرے دل نے جو سجا رکھے ہیں زخموں کی طرح کھل نہ پائے کسی گلشن میں وہ معیار کے پھول سونگھتی ہیں انہیں خوش ہو کے بہشتی حوریں سرفروشوں کے بدن پر ہیں جو تلوار کے پھول یہ مرے اشک ندامت ہیں خدا کو محبوب دنیا ...

مزید پڑھیے

دل میں دھڑکن لب میں جنبش چاہیے

دل میں دھڑکن لب میں جنبش چاہیے زندہ رہنے کو یہ ورزش چاہیے آدمی ہونے کا دینے کو ثبوت پاؤں میں تھوڑی سی لغزش چاہیے بیٹھے بیٹھے قسمتیں بنتی نہیں عزم محنت اور کوشش چاہیے امتزاج عیش و غم ہے زندگی لاکھ خوشیاں بھی ہوں رنجش چاہیے حافظؔ اس کو جستجو سورج کی ہے اور تمہیں بھی ایک مہوش ...

مزید پڑھیے

پھول نہیں تو کانٹا دے

پھول نہیں تو کانٹا دے مجھ کو کوئی تحفہ دے شبنم مانگ رہے ہیں گل اپنی آنکھیں چھلکا دے پتھر کاٹ کے کیڑے کو پالنے والا دانہ دے دھوپ میں جلتا ہے دن بھر سورج کو اک چشمہ دے حافظؔ وقت اگر چاہے حاتم کو بھی کاسہ دے

مزید پڑھیے

رات پرانی لگتی ہے

رات پرانی لگتی ہے بوڑھی نانی لگتی ہے میں راجا ہوں سپنوں کا اور وہ رانی لگتی ہے جو میری سانسوں کی طرح آنی جانی لگتی ہے یاد آتی ہے جب اس کی شام سہانی لگتی ہے میں دیوانہ لگتا ہوں وہ دیوانی لگتی ہے دل جب ٹوٹنے لگتا ہے دنیا فانی لگتی ہے شاعری آپ کی اے حافظؔ اپنی کہانی لگتی ہے

مزید پڑھیے

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا ایک اک دل پہ حکومت کرنا ہم بھی تاریخ بدل سکتے ہیں شرط ہے ہمت و جرأت کرنا زیب دیتا نہیں انسانوں کو کسی انساں کی عبادت کرنا رکھ کے خود اپنی ضرورت کو ادھار پوری اوروں کی ضرورت کرنا شب کی تاریکی میں سیکھا ہم نے چاند تاروں کی تلاوت کرنا آخری سانس تلک جیون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5198 سے 6203