ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے
ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجانہ چاہیے وہ کام رہ کے شہر میں کرنا پڑا ہمیں مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے ہے ہجر تو کباب نہ کھانے سے کیا حصول گر عشق ہے تو کیا ہمیں مر جانا چاہیے اس زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہمیں اترانا ...