قومی زبان

دست اٹھائیں یا کشکول

دست اٹھائیں یا کشکول ربا دینے والے بول یا رب یا رب کرتا ہوں یا رب یا رب مجھ سے بول میں نے تیری بولی سیکھی تو بھی میری بولی بول میں بھی نم دیدہ ہو جاؤں یوں آنکھوں سے موتی رول دنیا کو کچھ سمجھا ہوں کچھ دنیا کو تو بھی کھول کشتی پانی اوپر نیچے پانی کشتی ڈانواڈول میرے جینے کا ...

مزید پڑھیے

جو ختم ہو گئی تھی وہ بات چل رہی ہے

جو ختم ہو گئی تھی وہ بات چل رہی ہے اک سر خوشی کا عالم بارات چل رہی ہے تاریکیوں کے اندر اک رات چل رہی ہے اور رات کے جلو میں اک گھات چل رہی ہے کیا کیا بساط میں بھی پھیلا چکا تھا لیکن ان میں کسی پہ میری بھی مات چل رہی ہے ملنے کے سب بہانے ناکام ہو چکے ہیں وہ کہہ چکے ہیں مجھ سے برسات چل ...

مزید پڑھیے

وہم سے یا گماں سے اٹھتی ہے

وہم سے یا گماں سے اٹھتی ہے یا کہیں درمیاں سے اٹھتی ہے وہ تمنا کہ جس پہ جیتے ہیں کیا بتائیں کہاں سے اٹھتی ہے غم کدہ ہے یہ میرؔ صاحب کا ایک تابانی یاں سے اٹھتی ہے کیا سماوات میں تلاطم ہے کیا فغاں جسم و جاں سے اٹھتی ہے موج جب تہ نشین ہوتی ہے لہر آب رواں سے اٹھتی ہے لا مکانی مکاں ...

مزید پڑھیے

مری شکست نے مجھ کو بہت توانا کیا

مری شکست نے مجھ کو بہت توانا کیا زمین بوس ہوا اور فلک نشانہ کیا سواد لفظ پہ معنی کا پیرہن رکھا اٹھایا شعر فضا میں اسے ترانہ کیا طریق و طور رکھا عشق میں عجیب و غریب رقیب سے بھی مراسم کو محرمانہ کیا ہمیں تھے جو کہ مکاں در مکاں مکیں نہ ہوئے پہ طائروں نے جہاں چاہا آشیانہ کیا وہ ...

مزید پڑھیے

نظر نیچی کیے گزرے جہاں سے

نظر نیچی کیے گزرے جہاں سے کبھی پوچھا نہیں کچھ آسماں سے گزر کر آ گئے ہیں جسم و جاں سے ہماری گفتگو ہے رفتگاں سے جسے کرنا ہو ترک بادہ کر لے ہمیں کہنا نہیں کچھ بے دلاں سے سگ دنیا ہیں لیکن بے محابا ہم اٹھ جائیں گے تیرے آستاں سے محبت کی زباں ہے صاف و سادہ اسے رشتہ نہیں کچھ این و آں ...

مزید پڑھیے

رات کالی نہیں تو کیا ہوگی

رات کالی نہیں تو کیا ہوگی پائمالی نہیں تو کیا ہوگی شعر گویوں کی فطرت سادہ لاابالی نہیں تو کیا ہوگی اس کی زنبیل اور مری زنبیل میری خالی نہیں تو کیا ہوگی لحن اک اور وہ بھی وقت صبح وہ بلالی نہیں تو کیا ہوگی اچھے انسانوں کی طبیعت بھی گر سفالی نہیں تو کیا ہوگی شام کے سائے ہیں ...

مزید پڑھیے

کتاب عشق کا اک باب لکھ دیا میں نے

کتاب عشق کا اک باب لکھ دیا میں نے زمیں سراب فلک خواب لکھ دیا میں نے ہماری نظروں سے جام سفال جب گزرا پس دعا اسے نایاب لکھ دیا میں نے سکوت آب کو اس نے سکوت آب لکھا سکوت آب کو گرداب لکھ دیا میں نے وہ کوئی جبر تھا یا جبر سے فرار مرا رخ مہیب کو مہتاب لکھ دیا میں نے کہ روشنی کی نہ تھی ...

مزید پڑھیے

بھابھی

گھر میں تھی شادمانی اک جشن کامرانی دیکھا جو یہ تماشا امی سے میں نے پوچھا امی یہ بات کیا ہے کیوں جشن ہو رہا ہے امی یہ ہنس کے بولی تو تو بڑی ہے بھولی تجھ کو خبر نہیں ہے بھیا کی کل ہے شادی آئے گی تیرے گھر میں کل ایک شاہزادی میں جانتی نہیں تھی ہوتی ہے کیا یہ شادی اتنا مگر پتا تھا یہ ...

مزید پڑھیے

مل چکے ہیں گلاب سے پہلے

مل چکے ہیں گلاب سے پہلے آپ کے انتخاب سے پہلے ہم ترا اعتبار کر لیں گے مطمئن ہوں جواب سے پہلے منتظر نیند کہہ رہی ہے یہ دور ہوں اضطراب سے پہلے پیار کا بھی سبق ضروری ہے علم کی ہر کتاب سے پہلے تھام لیں ہاتھ دفعتاً ان کا پوچھنا کیا جناب سے پہلے آپ میں بھی نشہ کہاں کم ہے کاش آتے شراب ...

مزید پڑھیے

اگر وہ خوب صورت ہے بھلی ہے

اگر وہ خوب صورت ہے بھلی ہے ہماری روح بھی تو صندلی ہے ابھی رفتار پکڑے گی محبت ابھی تو وہ دبے پیروں چلی ہے یقیناً آ گئے ہیں بزم میں وہ نہیں تو اس قدر کیوں کھلبلی ہے دعا پھر غیب سے ماں نے ہمیں دی ہماری اک مصیبت پھر ٹلی ہے دکھاوا ہے محض شائستگی یہ تمہاری جب نظر ہی منچلی ہے ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5162 سے 6203