نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی
نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو نوک نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی اک صدف سطح سمندر پہ بہا جاتا ہے اور ساحل پہ نہیں ایک شناور ...