قومی زبان

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو نوک نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی اک صدف سطح سمندر پہ بہا جاتا ہے اور ساحل پہ نہیں ایک شناور ...

مزید پڑھیے

پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم ساری رات تمہاری خاطر میں نے زہر پیا جانم سورج کی مانند بنا ہوں ریزہ ریزہ بکھرا ہوں اب جیون کا سر چشمہ ہوں ویسے خوب جلا جانم تم نے مجھ میں جو کچھ کھویا اس کی قیمت تم جانو میں نے تم سے جو کچھ پایا ہے وہ بیش بہا جانم تم کو بھی پہچان نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

عظمتوں کا دیار بن کے رہو

عظمتوں کا دیار بن کے رہو شہر میں شہر یار بن کے رہو خاک بن کر بلندیاں چھو لو راستے کا غبار بن کے رہو میں تمہارے لئے پریشاں ہوں تم مرے غم گسار بن کے رہو ہار جاؤ تو ہار مت سمجھو جیت جاؤ تو ہار بن کے رہو زندگانی ہے جنگ کا میدان بس یہاں آر پار بن کے رہو بے قراروں کو کچھ قرار آئے کچھ ...

مزید پڑھیے

عمر بھر چلتا رہوں یہ حادثہ رہنے دیا

عمر بھر چلتا رہوں یہ حادثہ رہنے دیا اس نے منزل چھین لی اور راستہ رہنے دیا اس طرح اس نے کیا بیماریٔ غم کا علاج اچھا ہونے پر بھی محتاج دوا رہنے دیا جب گئے تھے میری راہوں میں جلا کر تم چراغ آندھیوں کو کس لئے مجھ سے خفا رہنے دیا چاہے جھوٹا ہی سہی اس نے دلاسہ تو دیا کم سے کم جینے کا ...

مزید پڑھیے

جسے بھی دیکھیے ساحل سے آ کے پیار کرے

جسے بھی دیکھیے ساحل سے آ کے پیار کرے سوال یہ ہے کہ دریا کو کون پار کرے وہ آ بھی جائے تو رہتا ہے انتظار اس کا اب ایسے شخص کا کیا کوئی انتظار کرے جو جانتے ہی نہیں اک قطار میں اڑنا نگاہ ایسے پرندوں کو کیا شمار کرے لباس جس کا ہے اجلا فقط مرے دم سے مری قمیص کے دھبے کو وہ شمار ...

مزید پڑھیے

جن کے قبضے میں پل نہیں ہوتے

جن کے قبضے میں پل نہیں ہوتے ان کے حصے میں کل نہیں ہوتے پھینک دے ہاتھ سے یہ تلواریں مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے سوچ کر تھک چکا ہر ایک غریب جھوپڑے کیوں محل نہیں ہوتے زہر ہوتا ہے اس کے سینے میں جس کے ماتھے پہ بل نہیں ہوتے ٹھوکروں سے وفا ضروری ہے راستے یہ سرل نہیں ہوتے

مزید پڑھیے

جس نے دیکھا وہ ہو گیا اس کا

جس نے دیکھا وہ ہو گیا اس کا کون بتلائے اب پتہ اس کا زندگی بھر یہ جستجو ہی رہی کون تھا اپنا کون تھا اس کا ہو گیا بوڑھا وہ غریب آخر آج تک گھر نہ بن سکا اس کا اس کی تھانے میں جیب خالی تھی بس یہی ایک جرم تھا اس کا طے کرے ہے سفر وہ اوروں کا کون روکے گا راستہ اس کا جانے کیا اس نے لکھ ...

مزید پڑھیے

چلنا آساں نہیں یہاں پیارے

چلنا آساں نہیں یہاں پیارے ہر قدم پر ہے امتحاں پیارے اپنا چہرہ ہی کہہ اٹھا سب کچھ اب رہا کون رازداں پیارے کس کے پیچھے یہاں چلے کوئی ہیں سبھی میرے کارواں پیارے جا کے پوچھو غریب بچوں سے کیسی ہوتی ہیں روٹیاں پیارے تیرے کہنے سے جو بجائی جائیں کیا کروں ایسی تالیاں پیارے یوں تو ...

مزید پڑھیے

تفکیر کو حروف کے سانچے میں ڈھال کے

تفکیر کو حروف کے سانچے میں ڈھال کے الفاظ کو تو بخش عناصر جمال کے تعریف تیری ایڑ ہو تنقید ہو لگام صحرائے فکر میں اڑا گھوڑے خیال کے بہر حیات میں ہیں حقیقت کے جو صدف اشعار میں پرو تو یہ موتی نکال کے ہے تیری جائیداد یہ حریت کلام کر صرف اس متاع کو نہ رکھ سنبھال کے شیرینیٔ حیات اور ...

مزید پڑھیے

بیداری

یہ سناٹا یہ تاریکی کا عالم کوئی ہم راز نہ کوئی ہے ہمدم کہاں ہے رنگ کی بو کی وہ دنیا کہاں ہیں گل کہاں نغموں کی سرگم الٰہی کیا یہی ہے تیرا برزخ نہیں نفس و جسم جس جا پہ باہم صبر کر تو ذرا بے تابئ دل ابھی تک ہے طبیعت کا یہ عالم ابھی طائر نفس کا قید میں ہے ابھی تو ہیں ہیولیٰ کے پس وہم تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5148 سے 6203