قومی زبان

دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑا

دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑا سامنے اس بد گماں کے مسکرانا ہی پڑا وہ جو روٹھے میں نے بھی کھا لی نہ ملنے کی قسم پھر نہ دل مانا تو خود جا کر منانا ہی پڑا اف ری مجبوری مزاج یار میں ہو کر دخیل راز داں خود اپنے دشمن کو بنانا ہی پڑا مجھ کو فصل گل میں تیور دیکھ کر صیاد کے آشیانہ ...

مزید پڑھیے

نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ

نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ کریں گے رقص پروانے ستارو تم تو سو جاؤ نگاہوں میں نگہ ڈالے نشے میں چور متوالے پڑھیں گے دل کے افسانے ستارو تم تو سو جاؤ سجے گی محفل یاراں بدن سیمابی جھومیں گے کریں گے رقص پیمانے ستارو تم تو سو جاؤ بھٹکتے ہیں گلستاں میں بیابانوں میں صحرا ...

مزید پڑھیے

اک نئی سی ان سنی سی بات کر

اک نئی سی ان سنی سی بات کر جھوٹی سچی اٹپٹی سی بات کر جانتی ہوں قصہ گڑھ کر آئے ہو چل سنا پھر ان کہی سی بات کر قصے کو ترتیب دینا چھوڑ اب دیر مت کر سرسری سی بات کر جان جاتی ہے بھلانے میں مری چھوڑ اس کو تو بھلی سی بات کر سب یہاں کرنے لگیں گے واہ واہ ایک دو تو بیتے کی سی بات کر دیر سے ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر میں اتنے مکاں گرے کیسے

تمہارے شہر میں اتنے مکاں گرے کیسے مرے عزیز ٹھکانے دھواں ہوئے کیسے میں شہر جبر سے گزرا تو سرخ رو ہو کر انہیں یہ فکر لہو کا نشاں مٹے کیسے سنا رہا ہوں کہانی ہزار راتوں کی کہ شاہزادے کے سر سے سناں ہٹے کیسے حساب خوب رکھا تم نے اپنی لاگت کا مرے نصاب میں سود و زیاں چلے کیسے ہر ایک شخص ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں مجھ کو اپنے سے جدا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں میں کہ مصلوب ہوں دے مجھ کو بھی ظالم کا خطاب سنت عیسیٰ جلا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں میرے گھر میں ہے جو غاصب تو نکالوں کہ نہیں مجھ پہ الزام جفا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں تیرے مقتول پہ سرگرم ہیں سارے ...

مزید پڑھیے

مرا ہر تیر نشانے پہ نہ پہنچا آخر

مرا ہر تیر نشانے پہ نہ پہنچا آخر در سفر میں بھی ٹھکانے پہ نہ پہنچا آخر توتلی عمر میں جو بچہ ذرا مشفق تھا کچھ بڑا ہو کے دہانے پہ نہ پہنچا آخر جی کو سمجھاتا ہوں قسمت میں لکھا تھا سو ہوا کچھ سنبھل کر بھی بہانے پہ نہ پہنچا آخر ایک غم ہوتا تو سینے سے لگا لیتا کوئی غم کا انبار اٹھانے ...

مزید پڑھیے

میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں

میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں سمندر دیکھ تیرا ہو گیا ہوں بجز اک نام کہتا ہوں نہ سنتا میں ایسا گونگا بہرا ہو گیا ہوں تری آنکھوں نے دھویا ہے مجھے یوں میں بالکل صاف ستھرا ہو گیا ہوں تو سورج ہے میں آئینے کا ٹکڑا کرن چھو کر سنہرا ہو گیا ہوں مجھے روشن کئے ہے عکس تیرا میں تیرا شوخ ...

مزید پڑھیے

دل پر یوں ہی چوٹ لگی تو کچھ دن خوب ملال کیا

دل پر یوں ہی چوٹ لگی تو کچھ دن خوب ملال کیا پختہ عمر کو بچوں جیسے رو رو کر بے حال کیا ہجر کے چھوٹے گاؤں سے ہم نے شہر وصل کو ہجرت کی شہر وصل نے نیند اڑا کر خوابوں کو پامال کیا اتھلے کنویں بھی کل تک پانی کی دولت سے جل تھل تھے اب کے بادل ایسے سوکھے ندی کو کنگال کیا سورج جب تک ڈھال رہا ...

مزید پڑھیے

اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے

اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے جب جاں پہ برستے تھے پتھر اس وقت ہمیں دلگیر ہوئے کچھ لوگ تمہاری آنکھوں سے کرتے ہیں طلب ہیرے موتی ہم صحرا صحرا ڈوب گئے اک آن میں جوگی فقیر ہوئے تم درد کی لذت کیا جانو کب تم نے چکھے ہیں زہر سبو ہم اپنے وجود کے شاہد ہیں سنگسار ہوئے ...

مزید پڑھیے

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا ظرف میں کاسۂ درویش سمندر نکلا کبھی درویش کے تکیہ میں بھی آ کر دیکھو تنگ دستی میں بھی آرام میسر نکلا مشکلیں آتی ہیں آنے دو گزر جائیں گی لوگ یہ دیکھیں کہ کمزور دلاور نکلا جب گرفتوں سے بھی آگے ہو پہنچ مٹھی کی تب لگے گا کہ سمندر میں شناور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5147 سے 6203