رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے
رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے سوچتی ہوں پیار کرنا چاہئے زندگی کو زندگی کے واسطے روز جینا روز مرنا چاہئے دوستی سے تجربہ یہ ہو گیا دشمنوں سے پیار کرنا چاہئے پیار کا اقرار دل میں ہو مگر کوئی پوچھے تو مکرنا چاہئے
رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے سوچتی ہوں پیار کرنا چاہئے زندگی کو زندگی کے واسطے روز جینا روز مرنا چاہئے دوستی سے تجربہ یہ ہو گیا دشمنوں سے پیار کرنا چاہئے پیار کا اقرار دل میں ہو مگر کوئی پوچھے تو مکرنا چاہئے
خود سے ملنا ملانا بھول گئے لوگ اپنا ٹھکانا بھول گئے رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں خوشبوئیں آزمانا بھول گئے تیرے جاتے ہی یہ ہوا محسوس آئنے جگمگانا بھول گئے جانے کس حال میں ہیں کیسے ہیں ہم جنہیں یاد آنا بھول گئے پار اتر تو گئے سبھی لیکن ساحلوں پر خزانہ بھول گئے دوستی بندگی وفا و ...
ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے بتا اے وقت تیرا جرم کیا ہے اجالا کام پر ہے پو پھٹے سے اندھیرا چین سے سویا ہوا ہے ہوا سے لڑ رہے بجھتے دیے نے ہمارا ذہن روشن کر دیا ہے وہ سورج کے گھرانے سے ہے لیکن فلک سے چاندنی برسا رہا ہے بدن پر روشنی اوڑھی ہے سب نے اندھیرا روح تک پھیلا ہوا ہے سنا ہے ...
اک جھلک تیری جو پائی ہوگی چاند نے عید منائی ہوگی صبح دم اس کو رلا آیا ہوں سارا دن خود سے لڑائی ہوگی اس نے دریا کو لگا کر ٹھوکر پیاس کی عمر بڑھائی ہوگی کیس جگنو پہ چلے گا انجمؔ بستی اوروں نے جلائی ہوگی
کھویا کھویا رہتا ہے جانے کیا کر بیٹھا ہے بستی میں اک پھول کھلا محلوں محلوں چرچا ہے رفتہ رفتہ اترے گا چڑھتی عمر کا دریا ہے اڑتی گھٹا کو کیا معلوم صحرا کتنا پیاسا ہے آج کے انساں کی منزل عورت شہرت پیسہ ہے بٹیا بھی سسرال گئی طوطا بھی چپ رہتا ہے چل انجمؔ گھر لوٹ چلیں صحرا میں ...
جانے کس کی آہٹ کا انتظار کرتا ہے ٹوٹ تو چکا ہے وہ دیکھو کب بکھرتا ہے زخم چاہے جیسا ہو ایک دن تو بھرتا ہے آپ سوئے ہوتے ہیں وقت کام کرتا ہے روز چھپ کے تکتا ہے پیاسی پیاسی نظروں سے اس کے گھر کے آگے سے دریا جب گزرتا ہے دل کا کیا کروں یارو مانتا نہیں میری اپنے دل کی سنتا ہے اپنے من کی ...
وہ جب اپنے لب کھولیں شہد فضاؤں میں گھولیں آپ کے بھی ہو جائیں گے ہم پہلے اپنے تو ہو لیں دنیا سے کٹ جائیں ہم اتنا سچ ہی کیوں بولیں جب جب خود کو قتل کریں خنجر گنگا میں دھو لیں اڑنا ہم سکھلا دیں گے آپ ذرا سے پر کھولیں کچھ دن ہلکے گزریں گے آج کی شب کھل کر رو لیں دن بھر سورج ڈھویا ...
کانٹوں میں جو پھول کھلا ہے جب دیکھو ہنستا رہتا ہے ڈالی پر اک پیلا پتہ جانے کیا گنتا رہتا ہے سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا اک خوشبو کو لے بھاگا ہے بہتے پانی پر دیوانا کس کو خط لکھتا رہتا ہے سونے چاندی کی جگ مگ نے سب کو اندھا کر رکھا ہے اک چڑیا کے آ جانے سے سارہ گھر آنگن چہکا ہے
آنکھوں میں طوفان بہت ہے بارش کا امکان بہت ہے راہ وفا پر چلنے والے یہ رستہ ویران بہت ہے دل ہر ضد منوا لیتا ہے یہ بچہ شیطان بہت ہے ایک ذرا ایماں بک جائے پھر سب کچھ آسان بہت ہے دل کا عالم مہکانے کو تیری اک مسکان بہت ہے
وصل کی رات وہ تنہا ہوگا اس پہ حالات کا پہرہ ہوگا نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب کون میرے لئے تڑپا ہوگا خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا وادئ ذہن سے اٹھتا ہے دھواں قافلہ یادوں کا ٹھہرا ہوگا جانے کس حال سے گزری ہوگی پھول جس شاخ پہ اترا ہوگا یاد آئیں گی ہماری ...