قومی زبان

یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح

یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح ذرا سمجھ تو سہی عہد نا سپاس ہمیں کہ تیرے ساتھ ہیں ہم یاد ...

مزید پڑھیے

اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں

اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں تیور تو ان کے دیکھ ذرا کس بلا کے ہیں کیا ماجرا ہے اے بت توبہ شکن کہ آج چرچے تری گلی میں کسی پارسا کے ہیں اس چشم نیم وا کی ہے مستی شراب میں ساغر میں سارے رنگ اسی کی حیا کے ہیں ہستی کی قید کاٹتے رہتے ہیں رات دن کیا جانے کتنے سال ہماری سزا کے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک غم کہ سہارا تھا زندگی کے لیے

وہ ایک غم کہ سہارا تھا زندگی کے لیے بھلا رہا ہوں اسے بھی تری خوشی کے لیے تو یوں خیال کے دروازے ہم پہ بند نہ کر ہزار شہر کھلے ہوں گے اجنبی کے لیے جہاں میں کون بچا ہے ہمارے قتل کے بعد جو تیری زلف مچلتی ہے برہمی کے لیے خزاں کا دور چمن میں نیا نہیں ہے مگر کلی کلی نہ ترستی تھی تازگی کے ...

مزید پڑھیے

زخم مہکے ہیں گل رخوں کی طرح

زخم مہکے ہیں گل رخوں کی طرح ہم بھی زندہ ہیں حسرتوں کی طرح تم کو خوشبو بنا کے چھوڑیں گے ہم میں بو باس ہے گلوں کی طرح کتنے چہرے لگائے پھرتے ہیں آج انسان راونوں کی طرح روز آب حیات پیتا ہوں روز مرتا ہوں میں گلوں کی طرح جس کو پالا وہی تو ذہن ہم کو ڈستا رہتا ہے ناگنوں کی طرح تپتا ...

مزید پڑھیے

سکون و صبر لٹا ہوش کا خزانہ گیا

سکون و صبر لٹا ہوش کا خزانہ گیا تمہیں بتاؤ خدارا کہ میرا کیا نہ گیا گرائی برق نظر سوز بارہا لیکن مذاق دید ہمارا شکست کھا نہ گیا خدا کی ذات پہ انساں نے کر دئے حملے فریب عقل سے جب آپ میں رہا نہ گیا ہمارے ذوق نظر نے تو خوب کام کیا چھپے ہزار طرح وہ مگر چھپا نہ گیا تمام عمر جلایا ...

مزید پڑھیے

اس بت کو ذرا چھو کے تو دیکھیں کہ وہ کیا ہے

اس بت کو ذرا چھو کے تو دیکھیں کہ وہ کیا ہے پتھر ہے کہ اک موم کے سانچے میں ڈھلا ہے اس نے مجھے اپنا کبھی سمجھا نہیں لیکن جس سمت گیا ہوں وہ مرے ساتھ رہا ہے جنگل ہے درندوں کا کوئی ساتھ نہیں ہے کس جرم کی پاداش میں بن باس ملا ہے تجھ پر بھی ہر اک سمت سے پتھراؤ ہوا ہے مجھ پر بھی ہر اک سمت ...

مزید پڑھیے

موسم گل ہے نقاب حسن اٹھ جانے کا نام

موسم گل ہے نقاب حسن اٹھ جانے کا نام ہے نشاط جان و دل اس دور کے آنے کا نام تنگ ذہنوں میں ہے ماتم گردش ایام کا محفل ہستی کو دے رکھا ہے غم خانے کا نام جب کبھی چھڑتا ہے ذکر رسم و راہ عاشقی لوگ لیتے ہیں ادب سے تیرے دیوانے کا نام ان کی یاد ان کا تصور ان کا غم ان کی خوشی زندگی ہے میری بس ...

مزید پڑھیے

روز اخبار میں چھپ جانے سے ملتا کیا ہے

روز اخبار میں چھپ جانے سے ملتا کیا ہے اپنی تشہیر کے افسانے میں رکھا کیا ہے تم نے جس کو غم ایام کہا ہے یارو وہ مرے درد کا حصہ ہے تمہارا کیا ہے جھن جھنے دے کے مرے ہاتھ میں کوئی مجھ کو قید ہستی کی سزا دے یہ تماشا کیا ہے کل تلک جو مری تعریف کیا کرتا تھا آج وہ بھی مرا دشمن ہے یہ قصہ کیا ...

مزید پڑھیے

سوز ناتمام

ایک پر ایک پانچ چھ اسٹول اپنے کاندھے پہ گاڑ کر بڑھئی شہر بھر میں گھماتا رہتا ہے دل میں خوابوں کی چاندنی لے کر گلیوں گلیوں پھراتا رہتا ہے ناامیدی لہو رلاتی ہے اسے پھر کو بہ کو پھراتی ہے روز یہ کاروبار جاری ہے

مزید پڑھیے

اک خودی بے خودی کے اندر ہے

اک خودی بے خودی کے اندر ہے راز خود راز ہی کے اندر ہے اک قیامت کوئی قیامت سی زیر لب خامشی کے اندر ہے ایک اک قطرہ گریۂ شبنم پھول جیسی ہنسی کے اندر ہے ہنس پڑے ہم تو رو پڑیں آنکھیں غم بھی شاید خوشی کے اندر ہے دن ڈھلے گا تو رات آئے گی تیرگی روشنی کے اندر ہے حسن آرائیاں بجا لیکن دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5131 سے 6203