ادھر کچھ اور کہتی ہے ادھر کچھ اور کہتی ہے
ادھر کچھ اور کہتی ہے ادھر کچھ اور کہتی ہے یہ دنیا چاہتی کچھ ہے مگر کچھ اور کہتی ہے یہ دل کچھ اور کہتا ہے نظر کچھ اور کہتی ہے مگر ان کی نگاہ معتبر کچھ اور کہتی ہے قصیدے پڑھ رہے ہو تم چمن کی شان میں لیکن ہر اک جھلسی ہوئی شاخ شجر کچھ اور کہتی ہے بظاہر ہیں جدید اسلوب کی آرائشیں دل ...