قومی زبان

نیا شہر

مجھے یاد ہے رائیگانی کے گہرے سمندر میں جب میں نے اکتارہ اپنا بجایا تو اس نغمۂ جاں فزا سے مقامات آہ و فغاں کے ابھارے مضامین نو کے شرارے جگائے مٹا ڈالا احساس سب رائیگانی کا سمندر کی تہہ سے نیا شہر ابھارا

مزید پڑھیے

ایک خواہش

یہ خواہش ہے کہ میں گیلی زمیں پر اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے اک بے حاشیہ تصویر کھینچوں جو مرے محبوب کے چہرے کے تجریدی تصور سے مزین ہو ہوا، گلشن کی دیواروں کے روزن سے ادھر آئے تو اس تصویر میں اپنے معطر رنگ بو دے مرے خاکے کی تجریدیں مٹا دے اٹھا کر گیلی مٹی سے سجا دے میری آنکھوں میں یہ ...

مزید پڑھیے

میرؔ جیسا کوئی سخنور نہ آئے گا

میرؔ جیسا کوئی سخنور نہ آئے گا اقبالؔ سا ادب میں پیمبر نہ آئے گا حسن سلوک سے مرے قائل ہوئے ہیں دوست الزام بے وفائی مرے سر نہ آئے گا اپنے لہو سے پیاس بجھانی ہے تا حیات اب راستے میں کوئی سمندر نہ آئے گا بے لطف سا رہے گا ہر اک کیف زندگی جشن طرب میں گر مرا دلبر نہ آئے گا میری ...

مزید پڑھیے

وہ جو تیرے قریب ہوتا ہے

وہ جو تیرے قریب ہوتا ہے کس قدر خوش نصیب ہوتا ہے جس کی خاطر نہ ہو دعا ماں کی وہی سب سے غریب ہوتا ہے جو نہ بدلا ہزار کوشش سے آدمی کا نصیب ہوتا ہے رنگ جو بھی بھرے حقیقت کے وہی سچا ادیب ہوتا ہے وقت پر کام آئے جو انوارؔ وہی اپنا حبیب ہوتا ہے

مزید پڑھیے

اس طرح تجھ کو چاہتا ہوں میں

اس طرح تجھ کو چاہتا ہوں میں زندگی جیسے مانگتا ہوں میں اس کے بارے میں کیا بتاؤں گا خود کو بھی کم ہی جانتا ہوں میں لوگ تو دھوپ بھی نہیں دیتے اپنا سایہ بھی بانٹتا ہوں میں اب تباہی مری یقینی ہے تیرا ہر راز جانتا ہوں میں میں کہ ہر بار قتل ہوتا ہوں ہر سیاست کو جانتا ہوں میں میں کڑی ...

مزید پڑھیے

کم بصیرت عذاب کہتے ہیں

کم بصیرت عذاب کہتے ہیں زیست کو ہم ثواب کہتے ہیں ہم نے آباد کر دئے صحرا لوگ خانہ خراب کہتے ہیں بے رخی نے ہمیں کیا گھائل وہ وفا کا جواب کہتے ہیں غم جو ننھا سا اک دیا ٹھہرا سب اسے آفتاب کہتے ہیں پیار ملتا ہے پیار کے بدلے ہم دوانے کا خواب کہتے ہیں دکھ کی لہروں کو دیکھ کر ہم تو سکھ ...

مزید پڑھیے

ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے

ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے میں اپنے آپ کو پاتا ہوں روبرو اپنے تمہاری یاد بھی اب آئنہ سی لگتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی گھر کے فرد اگر دشمنی کریں

اپنے ہی گھر کے فرد اگر دشمنی کریں کس آسرے پہ ہم یہ بسر زندگی کریں یارو قدم قدم پہ اندھیرے ہیں حکمران سورج کدھر اگائیں کہاں روشنی کریں لڑوا رہے ہیں رام کو جو بھی رحیم سے ان مذہبی خداؤں سے کیا دوستی کریں اے دوستو تناؤ میں جینا حرام ہے حد سے بڑھیں جو ظلم تو ہم سرکشی کریں آرام کے ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ساتھ اڑ جائے گا پانی

ہوا کے ساتھ اڑ جائے گا پانی یہیں پھر لوٹ کر آئے گا پانی تعلق اک مسلسل سلسلہ ہے جہاں ٹھہرے گا مر جائے گا پانی مسلسل بارشیں ہوتی رہیں تو ہمارے گھر بھی آ جائے گا پانی ہماری پیاس بڑھ جائے گی جس دن اسی دن آگ بن جائے گا پانی جنوں کی فصل گر اگتی رہی تو زمیں پر آگ برسائے گا پانی

مزید پڑھیے

کہاں تک دور رہ پاؤں گا خود سے

کہاں تک دور رہ پاؤں گا خود سے میں اک دن ملنے آ جاؤں گا خود سے زمیں کی وسعتوں کو چھوڑ دوں گا وفاداری نبھا جاؤں گا خود سے بہت مشکل ہے صحرا پار کرنا تمہارے بن نہ مل پاؤں گا خود سے مجھے نہ روک پائے گی یہ دنیا مجھے لگتا ہے ٹکراؤں گا خود سے

مزید پڑھیے
صفحہ 5127 سے 6203