حد نظر سے مرا آسماں ہے پوشیدہ
حد نظر سے مرا آسماں ہے پوشیدہ خیال و خواب میں لپٹا جہاں ہے پوشیدہ چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ پلک پہ آ کے ستارے نے داستاں کہہ دی جو دل میں آگ ہے اس کا دھواں ہے پوشیدہ افق سے تا بہ افق ہے سراب پھیلا ہوا اور اس سراب میں سارا جہاں ہے ...