قومی زبان

کسی صورت بھی نیند آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں

کسی صورت بھی نیند آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں میں کیسے سو جاؤں اکیلا پا کے مجھ کو یاد ان کی آ تو جاتی ہے مگر پھر لوٹ کر جاتی نہیں میں کیسے سو جاؤں جو خوابوں میں مرے آ کر تسلی مجھ کو دیتی تھی وہ صورت اب نظر آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں تمہیں تو ہو شب غم میں ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنی خواب جیسی ہے

زندگی اپنی خواب جیسی ہے خوب رو بے نقاب جیسی ہے صحن گلشن میں آپ کی ہستی شاخ پر ایک گلاب جیسی ہے کبھی ڈوبی ہے اور کبھی ابھری عاشقی بھی حباب جیسی ہے ہوش میں رہ کے بھی ہے بے ہوشی زیست اپنی شراب جیسی ہے ان کی شوخی تو ہے بہار چمن سادگی محو خواب جیسی ہے ہے کرشمہ یہ ان کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

اسی عمل کی ذرا سی شراب دیتا چل

اسی عمل کی ذرا سی شراب دیتا چل شرر کے ہاتھ میں کوئی گلاب دیتا چل وہ انتشار غم زیست میں جلا دے گا مگر اسی کو خوشی کی کتاب دیتا چل ہر اک سوال کا ملتا رہا جواب تجھے کسی سوال کا تو بھی جواب دیتا چل یہاں تو تیری حکومت کا کارخانہ تھا کبھی ہمارے غموں کا حساب دیتا چل زمیں سکون کی حالت ...

مزید پڑھیے

پیار کو پا کر جو محرومی ہوئی

پیار کو پا کر جو محرومی ہوئی کچھ ہمارے دل کی مجبوری ہوئی دور سے سہما ہوا بحر خموش دیکھتا ہے زندگی جلتی ہوئی ہے ابھی تعبیر کی رنگت وہی صورتیں ہیں خواب کی بدلی ہوئی میرے کمرے میں سبھی چیزیں ہیں آج زندگانی کی طرح بکھری ہوئی آج بھی یادوں کے ویرانے میں دوست تیری صورت ہے ذرا ابھری ...

مزید پڑھیے

کہیں اور ہی چلنا ہوگا

میرے گیتوں میں محبت نے جلائے ہیں چراغ اور یہاں ظلمت زردار کے گھیرے ہیں تمام سب کے ہونٹوں پہ ہوس ناک امیدوں کی برات کوئی لیتا نہیں الفت بھرے گیتوں کا سلام اے مرے گیت! کہیں اور ہی چلنا ہوگا تجھ کو معلوم نہیں آدم و حوا کی زمیں اپنے ناسور کو پردے میں چھپانے کے لیے گل کئے دیتی ہے ...

مزید پڑھیے

منزل شوق

پڑھتے پڑھتے تھک جاتا ہوں، کھڑکی سے کچھ دور گگن کو، چھو کے واپس آ جاتا ہوں نظروں کا انداز ہے یارو! پڑھنے میں جی لگ جاتا ہے! یوں بھی جینا آ جاتا ہے! سامنے میرے اک کمرہ ہے کمرے کی چھوٹی سی چھت پر، ایک بہت معمولی لڑکا، جب دیکھو ٹہلا کرتا ہے! عمر اگر پوچھو، تو ایسی جس میں سارے من کا ...

مزید پڑھیے

تمثیل

جب یہ بارش ذرا بھی تھمتی ہے دور بجلی چمکنے لگتی ہے، پھر قیامت کا شور ہوتا ہے، ابر پھر یوں برسنے لگتا ہے، جیسے نظروں کے سامنے اکثر حسن کی بجلیاں چمکتی ہیں، عشق جب زندگی کا طالب ہو حسن بن کر عذاب آ جائے، پتھروں کا مزاج لے آئے سختیاں مانگ لے چٹانوں سے، جذبۂ رحم کو فنا کر دے عشق مجبور ...

مزید پڑھیے

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں کہ اپنے فن سے پتھر کو بھی آئینہ بناتا ہوں میں انساں ہوں مرا رشتہ براہیمؔ اور آزرؔ سے کبھی مندر کلیسا اور کبھی کعبہ بناتا ہوں مری فطرت کسی کا بھی تعاون لے نہیں سکتی عمارت اپنے غم خانے کی میں تنہا بناتا ہوں نہ جانے کیوں ادھوری ہی مجھے ...

مزید پڑھیے

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا ازل سے تا بہ ابد صرف اک سفر میرا خراج مجھ کو دیا آنے والی صدیوں نے بلند نیزے پہ جب ہی ہوا ہے سر میرا عطا ہوئی ہے مجھے دن کے ساتھ شب بھی مگر چراغ شب میں جلا دیتا ہے ہنر میرا سبھی کے اپنے مسائل سبھی کی اپنی انا پکاروں کس کو جو دے ساتھ عمر بھر ...

مزید پڑھیے

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا دل خشک رہا تو کہیں ساون نہ ملے گا تم پیار کی سوغات لیے گھر سے تو نکلو رستے میں تمہیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا اب گزری ہوئی عمر کو آواز نہ دینا اب دھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا سوتے ہیں بہت چین سے وہ جن کے گھروں میں مٹی کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5110 سے 6203