قومی زبان

عورت

بنایا ہے مصور نے حسیں شہکار عورت کو الگ پہچان دیتا ہے کہانی کار عورت کو وہ ماں ہو بہن بیوی یا کہ بیٹی ہو سنو لوگو ہر اک کردار میں رکھا گیا غم خوار عورت کو یہی سچ مچ بنا دے گی ترے گھر کو حسیں جنت ذرا تم پیار سے کرنا کبھی سرشار عورت کو پھر اک دن ان کی قسمت میں لکھی جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

بیوپار

لاؤ مجھ کو دکھلاؤ تو آنکھوں میں ہیں کیسے خواب کچے ہیں یا پکے خواب اچھا ان کے دام بتاؤ دیکھو اتنا ذہن میں رکھنا اس بازار میں خوابوں کے اب دام گرے ہیں سچ سچ میں اک بات بتاؤں برسوں پہلے میں نے بھی یہ کام کیا تھا خواب بنے تھے خواب تھے بیچے مجھ کو تو یہ گورکھ دھندا راس نہ آیا نیند ...

مزید پڑھیے

کبھی میں یاد آؤں تو

کبھی میں یاد آؤں تو مری باتوں کو دہرانا محبت کے حسیں لمحے جو کل ہم نے گزارے تھے انہیں آنکھوں میں بھر لینا کبھی میں یاد آؤں تو سرکتی شام سے جاناں نگاہیں پھیر لینا تو کہیں ایسا نہ ہو جائے نہاں دل میں جو خواہش ہے تمہیں وہ مضطرب کر دے

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کا موسم

تمہیں معلوم تو ہوگا سبھی موسم بدلتے ہیں کبھی تپتی دوپہریں جون کی تن من جلاتیں ہیں کبھی یخ بستہ راتوں کا دسمبر لوٹ آتا ہے کبھی پت جھڑ کا موسم خون پیتا ہے درختوں کا کبھی سوکھی ہوئی شاخوں پہ کلیاں کھلکھلاتی ہیں خزاں کا دم نکلتے ہی بہاریں مسکراتی ہیں تمہیں معلوم تو ہوگا سبھی موسم ...

مزید پڑھیے

یہ عشق نگر وہ بستی ہے

یہ عشق نگر وہ بستی ہے جہاں روز ازل سے کھیل ہے یہ جو دل میں ارماں پلتے ہیں وہی دل کی آگ میں جلتے ہیں جو سپنے آنکھیں بنتی ہیں وہی کرچی کرچی چنتی ہیں یہاں روٹھتی ہیں جب تقدیریں پھر چلتی نہیں ہیں تدبیریں یہاں پاؤں میں چھن چھن کرتی ہیں ارماں حسرت کی زنجیریں یہاں دل میں جو آ بستے ہیں وہی ...

مزید پڑھیے

ابن آدم

کوئی جب پوچھتا ہے یہ شیعہ ہو تم یا سنی ہو وہابی ہو کہ دیوبندی بتاؤ کون سے فرقے سے نسبت ہے نہ جانے کیوں مجھے اک پل سجھائی کچھ نہیں دیتا میں گہری سوچ میں تب ڈوب جاتا ہوں مرے اندر سے اک آواز آتی ہے سنا ہے تم نے بچپن سے کہ تم تو ابن آدم ہو تو پھر سچ سچ بتاؤ نا مسلمانوں کے فرقے کیا کہ ہندو ...

مزید پڑھیے

قیدی

سنو لڑکی محبت کے سفر میں تو کوئی منزل نہیں ہوتی کہ تپتے ریگزاروں میں ہمیشہ چلنا پڑتا ہے یہ ایسا کھیل ہے جس میں کہیں بھی جیت ہوتی ہے نہ کوئی مات ہوتی ہے فقط جو قرب پانے کو محبت نام دیتے ہیں بہت نادان ہوتے ہیں سنو لڑکی تمہیں تو بنت حوا کی نظر آتی ہے مجبوری تمہیں کیسے بتاؤں میں کہ میں ...

مزید پڑھیے

یاد

میری محبوب تجھے یاد بھی ہیں وہ لمحے وہ شب وصل کہ جب خواب سنور آئے تھے اسم اعظم کی طرح ورد زباں تھا کوئی جیسے عابد ہو مصلے پہ زباں کھولے ہوئے خامشی ایسی کہ جگ بیت گئے بولے ہوئے ایک نے ایک کو پیغام دیا ہو جیسے ایک نے ایک سے پیغام لیا ہو جیسے وجد کی نیند میں کچھ دیر تلک سوئے بھی ...

مزید پڑھیے

خواب

تمہارے آنچل کی سرخ شامیں کہ جس کی خوشبو لہو لہو ہے وہ سبز بارش کہ جو ہمارے بدن کی مٹی کو گیلا کر کے دہکتے سورج کی گرم بانہوں میں سو گئی ہے

مزید پڑھیے

مرا مخالف خدا نہیں ہے

میں آسماں کی بلندیوں سے تمہاری نظروں کی نرم شاخوں پہ آ گیا ہوں کہ سر پھری سی ہوا کی زد میں مری نگاہوں کا نور گم ہے میں چاندنی کی سفید راتوں میں لٹ گیا ہوں خود اپنی نظروں سے گر گیا ہوں مگر یہ میری خطا نہیں ہے مرا مخالف خدا نہیں ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5019 سے 6203