قومی زبان

زمیں کی کوکھ سے پہلے شجر نکالتا ہے

زمیں کی کوکھ سے پہلے شجر نکالتا ہے وہ اس کے بعد پرندوں کے پر نکالتا ہے شب سیاہ میں جگنو بھی اک غنیمت ہے ذرا سا حوصلہ اندر کا ڈر نکالتا ہے کہ بوڑھے پیڑ کے تیور بدلنے لگتے ہیں کہیں جو گھاس کا تنکا بھی سر نکالتا ہے پھر اس کے بعد ہی دیتا ہے کام کی اجرت ہمارے خون سے پہلے وہ زر نکالتا ...

مزید پڑھیے

میں نے اک خواب کیا سنا ڈالا

میں نے اک خواب کیا سنا ڈالا بھائیوں نے کنویں میں جا ڈالا یار تم بھی عجب مداری ہو سانپ رسی کو ہے بنا ڈالا ایسی چائے کبھی نہ پی میں نے سچ بتا تو نے اس میں کیا ڈالا آنکھ بھر کے جب اس نے دیکھا تو زرد موسم میں دل کھلا ڈالا بس وہ نیکی ثواب بنتی ہے دوش دریا جسے بہا ڈالا میں کہیں لاپتہ ...

مزید پڑھیے

پتھروں کو سنائی دیتا ہے

پتھروں کو سنائی دیتا ہے جو تو ایسے دہائی دیتا ہے پیٹ خالی ہو گر پرندوں کا دام کس کو دکھائی دیتا ہے کوئی دشمن کبھی نہیں دیتا زخم جیسا کہ بھائی دیتا ہے میں ہی خود چھوڑتا نہیں ہوں قفس وہ تو مجھ کو رہائی دیتا ہے ایسے اب زاویے سے بیٹھا ہوں چاروں جانب دکھائی دیتا ہے سچ تو آنکھوں ...

مزید پڑھیے

اٹھا رہے ہو جو یوں اپنے آستاں سے مجھے

اٹھا رہے ہو جو یوں اپنے آستاں سے مجھے نکال کیوں نہیں دیتے ہو داستاں سے مجھے خبر نہیں ہے کہ میں کس گھڑی چلا جاؤں صدائیں آنے لگیں اب تو آسماں سے مجھے یہ جانتا ہی نہیں ہوں کہاں میں بھول آیا وہ ایک راز جو کہنا تھا رازداں سے مجھے نکال سکتا نہیں ہوں میں دل سے حب حسین وراثتوں میں ملی ...

مزید پڑھیے

کٹتے ہی ڈور سانس کی نام و نمود خاک

کٹتے ہی ڈور سانس کی نام و نمود خاک ہونا ہے ایک روز یہ قصر وجود خاک ٹوٹا کسی کا دل جو گرا دوسری طرف میزان میں پڑا ترا رخت سجود خاک تجسیم کر رہا ہے وہ دست کمال سے آتش پرست دہریے مسلم ہنود خاک اس محفل طرب میں نہیں چاشنی کوئی دل میں رمق نہ ہو اگر بزم سرود خاک بڑھنے لگے ہیں چار سو ...

مزید پڑھیے

مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد

مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد سانسوں سے لپٹی آخری چاہت تمام شد دست قضا بڑھا ہے مری سمت الوداع اے اعتکاف عشق عبادت تمام شد ساقی تمہارے مدھ بھرے ہونٹوں کا شکریہ بادہ کشی کی ساری حلاوت تمام شد ٹوٹی ہے آج سانس کی ڈوری تو یوں ہوا ان دیکھی منزلوں کی مسافت تمام شد بجھتے ہوئے چراغ ...

مزید پڑھیے

طاری رہے گا سوچ پہ وحشت کا بھوت کیا

طاری رہے گا سوچ پہ وحشت کا بھوت کیا ٹوٹے گا کسی طور یہ شب کا سکوت کیا پڑتی نہیں ہے آنکھ کے ساحل پہ سرخ دھوپ کرتا میں آرزوؤں کے لاشے حنوط کیا تم نے کہا تو زہر بھی پینا پڑا مجھے اب اس سے بڑھ کے دوں تمہیں سچ کا ثبوت کیا کیسے کپاس کے لیے گندم کو چھوڑ دوں مٹتی نہیں ہے بھوک تو کاتوں میں ...

مزید پڑھیے

تمہیں آزاد کرتا ہوں

محبت کے سبھی وعدے سبھی قسمیں سبھی رسمیں جنہیں مل کر نبھانے کے کیے عہد و پیماں ہم نے تمہیں اب بھار لگتا ہے جو بندھن توڑنا چاہو مجھے گر چھوڑنا چاہو ستم یہ بھی میں سہہ لوں گا تمہارے بن میں رہ لوں گا کہ دل ناشاد کرتا ہوں تمہیں آزاد کرتا ہوں تمہیں آزاد کرتا ہوں

مزید پڑھیے

مورتی

میں اکثر سوچتا ہوں کیا کہوں میں کیا لکھوں تجھ کو ہے کوئی اپسرا تو یا کہ پھر ہے روپ کی دیوی تو جو بھی ہے حقیقت میں ہے اک شہکار قدرت کا کئی صدیاں سفر کر کے تخیل یوں نکھرتا ہے یوں ہی پل میں ترے جیسی کوئی مورت نہیں بنتی چنبیلی موتیا نرگس گل لالہ کنول صندل سبھی کا رس نچوڑا اور ملا کر ...

مزید پڑھیے

سوداگر

سنو میں ہوں کچھ بیچنے آیا اگر تم کو ضرورت ہو تو پھر کچھ بھاؤ کرتے ہیں مرے حصے کی سب خوشیاں مرے ہونٹوں کی ہر مسکان مری یہ روح یہ جسم و جاں تم اپنے نام لکھوا لو میں ہوں بے نام اک بندہ کہ سب کچھ مجھ سے لے کر تم مجھے اک نام دے دینا کہ اپنی زندگانی سے مجھے اک شام دے دینا

مزید پڑھیے
صفحہ 5018 سے 6203