زمیں کی کوکھ سے پہلے شجر نکالتا ہے
زمیں کی کوکھ سے پہلے شجر نکالتا ہے وہ اس کے بعد پرندوں کے پر نکالتا ہے شب سیاہ میں جگنو بھی اک غنیمت ہے ذرا سا حوصلہ اندر کا ڈر نکالتا ہے کہ بوڑھے پیڑ کے تیور بدلنے لگتے ہیں کہیں جو گھاس کا تنکا بھی سر نکالتا ہے پھر اس کے بعد ہی دیتا ہے کام کی اجرت ہمارے خون سے پہلے وہ زر نکالتا ...