صلیب
کہ جیسے روز ازل سے اب تک بکھرتی قوس قزح کی زد میں یہ ریزہ ریزہ وفا کی کرنیں اتر رہی ہیں ہماری سانسوں کی الگنی پر
کہ جیسے روز ازل سے اب تک بکھرتی قوس قزح کی زد میں یہ ریزہ ریزہ وفا کی کرنیں اتر رہی ہیں ہماری سانسوں کی الگنی پر
نیند آئے تو تیرا خواب دیکھوں تجھے نظر میں بھروں کہ صبح آئے گی آنکھوں میں پھر عذاب لیے
لذت دید سے دیکھو گے مچل جاؤ گے آگ ہوں ہاتھ لگاؤ گے تو جل جاؤ گے موم پتھر کو بنا دوں وہ اثر رکھتی ہوں پاؤں شعلوں پہ تو تلوار پہ سر رکھتی ہوں یہ بہاریں یہ امنگیں یہ مسرت یہ شباب یہ شفق رنگ مناظر یہ شگوفے یہ گلاب یہ نوازش یہ عنایات کہاں پاؤ گے رب سے بخشی ہوئی سوغات کہاں پاؤ گے میری ...
کاش اس دل کی طرح کوئی مکاں بھی ہوتا اپنی ہستی کی طرح اپنا جہاں بھی ہوتا ظلمت شب میں تجلی کا گماں بھی ہوتا میرے ہونٹوں پہ مرا طرز بیاں بھی ہوتا میری یادوں کو مری جان بسر جانے دو بات جو دل پہ گزرتی ہے گزر جانے دو آج جب ترک تعلق کا خیال آیا ہے ایسا لگتا ہے محبت کو زوال آیا ہے اتنی حسرت ...
اس کا انجام بھلا ہو کہ برا ہو کچھ ہو اب رعایا ہمیں رہنا نہیں شاہو کچھ ہو زخم کا ایک سا یہ رنگ نہیں بھاتا ہے اب تو یہ ٹھیک ہو یا اور ہرا ہو کچھ ہو بند یادوں کے حوالات میں کب تک رہوں میں یا میں ہو جاؤں بری یا تو سزا ہو کچھ ہو جسم کہتا ہے کہ اب جاں سے گزر ہی جاؤ دل یہ کہتا ہے کہ یہ ...
آنکھوں میں خواب رکھ دئے تعبیر چھین لی اس نے خطاب بخش کے جاگیر چھین لی غم یہ نہیں کہ بخت نے برباد کر دیا غم ہے تو یہ کہ خواہش تعمیر چھین لی دستار مصلحت تو یوں بھی سر پہ بوجھ تھی اچھا کیا کہ تم نے یہ توقیر چھین لی یہ کس کی بد دعا کی ہے تاثیر یا خدا جس نے مری دعاؤں سے تاثیر چھین ...
کچھ درجہ اور گرمئ بازار ہو بلند دل بیچئے کہ ذوق خریدار ہو بلند باب قبول بند ہے دست طلب پر اب رب چاہتا ہے پائے طلب گار ہو بلند جھک جائے گا سبو بھی کوئی جام تو اٹھائے دانہ ہے منتظر کوئی منقار ہو بلند دیکھی تھی جس نے پیاس وہ پانی تو بہہ چکا امکاں نہیں کہ پرچم انکار ہو بلند ناخون ...
سپیدی رنگ جہاں میں نہیں ملاتا ہوں حقیقتوں کو گماں میں نہیں ملاتا ہوں سرشک غم رگ جاں میں نہیں ملاتا ہوں میں زہر آب رواں میں نہیں ملاتا ہوں جو کہہ دیا کہ ترا ہوں تو صرف تیرا ہوں میں جھوٹ اپنے بیاں میں نہیں ملاتا ہوں تمام شہر تری ہاں میں ہاں ملاتا ہے اکیلا میں تری ہاں میں نہیں ...
خواب کیا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں اک نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں اس نے کیا کیا ستم نہ توڑے ہیں دل مرا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں ٹوٹتا جا رہا ہے اک اک خواب سلسلہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں رشتے ناطے تمام ٹوٹ گئے سر پھرا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں پو پھٹی انگ انگ ٹوٹتا ہے اور نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں لہریں آ آ ...
خودی کے زعم میں ایسا وہ مبتلا ہوا ہے جو آدمی بھی نہیں تھا وہ اب خدا ہوا ہے وہ کہہ رہا تھا بجھائے گا پیاس صحرا کی مرا اک ابر کے ٹکڑے سے رابطہ ہوا ہے تمہارا طرز بیاں خوب ہے مگر صاحب یہ قصہ میں نے ذرا مختلف سنا ہوا ہے یہ مٹی پاؤں مرے چھوڑتی نہیں ورنہ فلک کا راستہ بھی سامنے پڑا ہوا ...