قومی زبان

زخم کچھ ایسے دے کے گیا دارائی کا کرب

زخم کچھ ایسے دے کے گیا دارائی کا کرب بھوگ رہا ہوں مدت سے تنہائی کا کرب یہ تو سرخ سلگتا سورج ہی جانے ہے کتنا بھیانک ہوتا ہے تنہائی کا کرب تیز ہوا میں تالی بجانے والے پتو بانجھ نہ کر دے پیڑوں کو شہنائی کا کرب ذہن کا میرے روز بدل دیتا ہے موسم شام ڈھلے سوندھا سوندھا انگنائی کا ...

مزید پڑھیے

خوں وراثت کا رگوں میں فخر کے قابل ہوا

خوں وراثت کا رگوں میں فخر کے قابل ہوا جب مرے ہی خاکداں سے میرا سر حاصل ہوا ہر جزیرہ برف کا میری انا کی مملکت راہ میں پھر کوہ نا معلوم کیوں حائل ہوا ریت کے دریا سے قائم تھی امید معجزہ تشنگی میں جو قدم آگے بڑھا حاصل ہوا سایہ پانی میں چلا جب مجھ کو تنہا چھوڑ کر میرا منظر ہی مرے ...

مزید پڑھیے

باطنی چھت

شہاب ثاقب کا کھیل دل کی اگر فضاؤں کو خیرہ کر دے تو میں سمجھ لوں کہ میرے اندر کشش کی سرحد پہ ایک چھت ہے کہ جس میں پیہم مسرتوں کے ہزاروں تارے چمک رہے ہیں مگر قدامت کی انتہا کو جو چھو چکے ہیں شکستہ ہو کر ہر ایک لمحہ بکھر رہے ہیں

مزید پڑھیے

بجوکے

نکتہ دان ادب تم کو کیا ہو گیا لہلہاتی ہوئی ذہن کی فصل میں کس لئے کر رہے ہو بجوکے کھڑے اس طرف وہ چرندے نہیں آئیں گے اشتہا کی جو بے چینیوں کو لئے بوتے رہتے ہیں ہر سمت بربادیاں نکتہ دان ادب ذہن کی فصل کی ہو سکے تو بہاریں مجسم کرو خوف کے استعاروں سے کیا فائدہ

مزید پڑھیے

میرے سخن میں تبھی فلسفہ زیادہ ہے

میرے سخن میں تبھی فلسفہ زیادہ ہے کہ میں نے لکھا بہت کم پڑھا زیادہ ہے اس ایک رنگ کی تھی جستجو زمانے کو وہ ایک رنگ جو مجھ پہ کھلا زیادہ ہے تم ہی بتاؤ ابھی کیسے چھوڑ دوں اس کو ابھی وہ مجھ میں ذرا مبتلا زیادہ ہے یہ ایک پل کی وفا مدتوں کا رونا ہے ذرا سے جرم کی اتنی سزا زیادہ ہے میں ...

مزید پڑھیے

قدموں کا رہ دل پہ نشاں کوئی نہیں تھا

قدموں کا رہ دل پہ نشاں کوئی نہیں تھا مدت سے یہاں گشت کناں کوئی نہیں تھا تجھ کو تو مرے دوست ہے تنہائی میسر میں نے وہاں کاٹی ہے جہاں کوئی نہیں تھا ویسے تو بہت بھیڑ تھی اس خانۂ دل میں لیکن مرے مطلب کا یہاں کوئی نہیں تھا کوئی بھی نہیں تھا جسے ہم دل کی سناتے کوئی بھی نہیں تھا مری جاں ...

مزید پڑھیے

اس سے خوابوں میں سامنا ہوگا

اس سے خوابوں میں سامنا ہوگا ہجر کا لطف دو گنا ہوگا کچھ اجالے بھی ساتھ رکھ لینا دشت دنیا بہت گھنا ہوگا اس کو کچھ دیر دیکھنے کے لئے پہلے ہر اور دیکھنا ہوگا وہ بھی دنیا کے طور سیکھ گیا یعنی اب اس کو چھوڑنا ہوگا اس نے پوچھی ہے میری خیر و خبر اب مجھے جھوٹ بولنا ہوگا

مزید پڑھیے

تجھ کو اندازے نہیں راہ کی دشواری کے

تجھ کو اندازے نہیں راہ کی دشواری کے ہم تو قائل ہیں تری قافلہ سالاری کے یہ ترے ساتھ میں رونے سے کھلا ہے مجھ پر ہیں تری آنکھ میں سب اشک اداکاری کے بے وفائی بھی اگر کی تو بتایا اس کو میں نے آداب نبھائے ہیں وفاداری کے جشن میں نے بھی منایا تھا شجر کٹنے کا اس نے وہ فائدے گنوائے مجھے ...

مزید پڑھیے

جہاں سے آ گئے ہیں اس جہاں کی یاد آتی ہے

جہاں سے آ گئے ہیں اس جہاں کی یاد آتی ہے کہ ہم عریاں سروں کو سائباں کی یاد آتی ہے جہاں محفل شب میں سبھی آنکھیں بھگوتے ہیں سبھی کو اپنے اپنے رفتگاں کی یاد آتی ہے وہاں جب تک رہے تب تک یہاں کی فکر رہتی تھی یہاں جب آ گئے ہیں تو وہاں کی یاد آتی ہے یہ شہر اجنبی میں اب کسے جا کر بتائیں ...

مزید پڑھیے

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں کہاں رکھوں گی لب میں بے بسی میں تمہاری سمت آنے کی طلب میں میں رکتی ہی نہیں ہوں بے خودی میں دل خوش فہم تجھ سے کتنے ہوں گے نثار اس کی تمنا کی گلی میں نہیں وہ اتنا بھی پاگل نہیں تھا جو مر جاتا مری وابستگی میں مجھے اب عاصمہؔ چلنا پڑے گا خود اپنے آپ ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4927 سے 6203