قومی زبان

انار کلی (ردیف .. ے)

انار کلی تیرے مقبرے کے احاطے میں کس قدر شور و غل ہے میں جب بھی خود کو تنہا اداس پاتی ہوں اور دفتری چائے کافی سے دل بھرنے لگے اخبار بھی الماری کے کونے کی زینت بنے کوئی کتاب بھی میرا دل نہ بہلا سکے تو میں اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے جہاں سے تیرا مقبرہ صاف دکھائی دیتا ہے تیرے بارے میں ...

مزید پڑھیے

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں آج خود کو بھلائے بیٹھی ہوں جانے والوں کا انتظار نہیں اپنے رستے میں آئے بیٹھی ہوں اس کی آنکھوں میں ہے طلسم کوئی اپنا چہرہ لٹائے بیٹھی ہوں چاند کو طیش آ رہا ہے کہ میں کیوں نظر کو ملائے بیٹھی ہوں پھول کھلتے ہیں مجھ میں شعروں کے ایک مصرعہ سمائے ...

مزید پڑھیے

زخم کھا کے بھی مسکراتے ہیں

زخم کھا کے بھی مسکراتے ہیں ہم ہیں پتھر بکھر نہ پاتے ہیں کوئی پہچان ہی نہ لے ہم کو رنگ میں شام ہم ملاتے ہیں خواب کا انتظار ختم ہوا آنکھ کو نیند سے جگاتے ہیں شام کے وقت ہجرتی پتے سبز پیڑوں کا غم مناتے ہیں عاصمہؔ روشنی بھرے الفاظ اپنے اندر ہی جھلملاتے ہیں

مزید پڑھیے

محبت ختم ہے تم پر

تم کیا جانو آواز سفر کرتی ہے دور مندروں میں بجتی گھنٹیوں کی طرح جسم بولتے ہیں دریا کی لہریں جب کناروں سے ٹکراتی ہیں تلاطم خیز موجوں کا عجب اک شور اٹھتا ہے اور اس پر پڑتی کمروں کی روشنی خاک دریا میں روح پھونک دیتی ہے تم بچوں کو پریوں چاند ستاروں کی کہانیاں سناتے ہو بے خبر یہ سبھی ...

مزید پڑھیے

ہیرو

میرا باپ میری زندگی کا ہیرو ہے مایوسیوں سے بھرے دنوں میں اس کا ایک اک لفظ میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے یاد ہے مجھے کتنی اداس شاموں میں سنائی گئی اس بوڑھے ماہی گیر کی سمندر میں جاری جنگ کی داستاں بوڑھا اور سمندر اور پھر ہار جانے پر کئی بار یہ الفاظ میری روح میں اترتے رہے تباہی تو مقدر ہے ...

مزید پڑھیے

نظم

رات کے پھیلتے سناٹوں میں دل کے زندان میں اک یاد کا دیپک سا جلا پھڑپھڑاتی ہے بہت لو اس کی وادیٔ ہجر سے آتی ہیں صدائیں جتنی اس کے سینے میں بہت گونجتی ہیں اسم ہجرت سے عجب سبز ہوا ہے زنداں اک سکوں ہے کہ جو وحشت میں بھی آسودہ ہے

مزید پڑھیے

نو نیڈ آف پاسورڈ

ہم محبت کا پاسورڈ نوٹ پیڈ پر لکھ کر بھول گئے ہیں مگر تیری آنکھیں نہ جانے کس جادوئی منتر کے نم سے دھلی ہیں کہ اسیر کر لیتی ہیں میرے دل کی دھڑکنوں کو اپنی پلکوں کی لرزش میں کسی پاسورڈ کے بغیر جیسے چاند کی چاندنی کو رات اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے میری محبت اپنی پیاس بجھاتی ہے ہوا کے ...

مزید پڑھیے

مانوس اجنبی

میرے سامنے بیٹھا اجنبی مجھے دیکھتا تھا شاید کوئی آبلہ پا تھا میری آنکھوں سے ہو کر گزرا شاید کوئی دریا تھا کوئی سراب تھا سبھی منظروں سے اوجھل ٹریفک کے دھویں میں گم ہوتا ہوا کوئی ہجوم تھا جیسے کوئی پر سکون سا اماوس راتوں کا درد دیکھتے دیکھتے اپنی صورت بدلنے لگا تھا میں کہنے ہی ...

مزید پڑھیے

محبت کا آخری سائبان

ریت بھری ہوائیں چیرتی ہیں دل کے زخموں کو ٹوٹ جاتی ہیں زنجیریں سانسوں کی کس قدر برہم ہے یہ غصیلی ہوا اے میری محبت کے آخری سائبان مجھے لے چل کسی ایسے ساحل سمندر پر جہاں میں دل کا غبار دھو سکوں سفاک منظر کی دلدل آنکھوں کے آئینے سے اتر جائے میں بھاگتی رہوں دیر تک دور تک یہاں تک کہ ...

مزید پڑھیے

قدرت کی فلیش لائٹ

رات کے نقش اجال کر بالٹی میں بھر دیے گئے چاند جن میں اپنی کرنوں کے موتی اچھالتا تھا جلتی ہوئی ہتھیلی پر کس نے رکھا تھا چاند کو وہ ہاتھ اپنے مل رہی تھی آئینہ دیکھتا تھا منظروں کے دوسری طرف بھیڑیا اپنی گمبھیر آواز فضا میں بکھیرتا بستیوں میں خوف انڈیلتا تھا اسکرین کا پردہ بدل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4928 سے 6203