قومی زبان

اداسی

وہ شخص جس کو ہنستے ہوئے گھر پسند تھے وہ شخص جس کو بولتے منظر پسند تھے وہ شخص جس کے ساتھ سمے خوش گوار تھا وہ شخص جانے کتنے دلوں کا قرار تھا کچھ وقت سے وہ حالت دنیا سے ہے خفا خوشبو سے رنج کوہ سے دریا سے ہے خفا آنکھیں اداس ایسی کہ ماتھے پہ بل پڑیں افسردگان شہر کے آنسو نکل پڑیں دنیا میں ...

مزید پڑھیے

ڈس ایبلٹی

ایک پھول بگیا میں میں نے دیکھا ہے جس میں ایک پنکھڑی کم ہے باقی سارے پھولوں سے پر اسے میسر ہے ایک سا ہوا پانی ایک جیسے رنگ و بو ایک جیسا ہی جادو تتلیاں ہوں بھنوریں ہوں یا کسی کی نظریں ہوں اس میں اور اوروں میں فرق ہی نہیں کرتیں ہاں مگر مرے پیارے یہ چمن کا قصہ تھا آدمی کی بستی میں اس ...

مزید پڑھیے

تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں

تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں تدبیر لے اڑے گی مجھے آسمان میں اب اور صبر کا تجھے کیا چاہئے خراج میں نے تو اپنی جان بھی دے دی لگان میں اس کا بھی آج بیٹا ہوا موت کا شکار جو بیچتا تھا نقلی دوائیں دکان میں تفریق کا مریض تعصب کا ہو شکار ایسا نہیں ہے کوئی میرے خاندان میں شہر ادب ...

مزید پڑھیے

بندگی کیوں نہ راس آتی ہے

بندگی کیوں نہ راس آتی ہے کیا یہ نمرود کی خدائی ہے چاندنی اوڑھ کر جو نکلا ہے جیب اس کی وفا سے خالی ہے زندگی اب کہاں کرے فریاد آبرو حادثوں نے لوٹی ہے راز چھپتا نہیں چھپانے سے آج گھر گھر میں گھر کا بھیدی ہے یہ ہے تیرا فریب اے ساحل میری کشتی بھنور میں ڈوبی ہے جنگ میں آئے گا مزا ...

مزید پڑھیے

ہماری ناؤ

آنگن میں پانی آیا ہے کیا اچھا تالاب بنا ہے کاغذ ہم اچھے اچھے لائیں پھاڑ کے ان کو ناؤ بنائیں ناؤ تمہاری ٹوٹی اختر ڈوب رہی ہے چکر کھا کر کھیلیں کودیں دل بہلائیں دوڑو اکبر اس کو بچائیں کیا اچھا تالاب بنا ہے کیا اچھا تالاب بنا ہے پانی میں سب مل کر جائیں اپنی اپنی ناؤ بہائیں کھیل میں ...

مزید پڑھیے

کوئی آ کر نہیں جاتا دلوں کے آشیانوں سے

کوئی آ کر نہیں جاتا دلوں کے آشیانوں سے رہائی کا کوئی رستہ نہیں ان قید خانوں سے مچھیرے کشتیوں میں بیٹھ کر کے گا رہے ہیں گیت ہوائیں مسکرا کر مل رہی ہیں بادبانوں سے زمیں والوں نے جب سے آسماں کی اور دیکھا ہے پرندے خوف کھانے لگ گئے اونچی اڑانوں سے یہ سوکھے زخم ہیں یا رنگ ہیں تصویر ...

مزید پڑھیے

تمہاری شکل کسی شکل سے ملاتے ہوئے

تمہاری شکل کسی شکل سے ملاتے ہوئے میں کھو گیا ہوں نیا راستہ بناتے ہوئے مرا نصیب کہ پت جھڑ میں کھل گئے ہیں پھول وہ ہاتھ آ لگا ہے ہاتھ آزماتے ہوئے میں جھوٹ بول دوں لیکن برا تو لگتا ہے تمہارے شعر کسی اور کو سناتے ہوئے اتر کے شاخ سے اوروں میں ہو گیا آباد کہ عمر کاٹ دی جس پھول کو ...

مزید پڑھیے

تمہارے ساتھ یہ قصہ کبھی کبھار کا ہے

تمہارے ساتھ یہ قصہ کبھی کبھار کا ہے مگر یہ ہجر مرے ساتھ بار بار کا ہے ہمارے درمیاں اک شک کی فلم ہے جس میں کہیں کہیں پہ کوئی سین اعتبار کا ہے یہ تیری ہم پہ عنایت ہے یا چمن میں کسی خزاں نصیب کے حصہ میں سکھ بہار کا ہے اگر تو خود کو کھلا چھوڑتا ہے جان بہار تو تجھ پہ حق ترے پہلے ...

مزید پڑھیے

لطف بڑھتا ہے سفر کا دوست کم رفتار سے

لطف بڑھتا ہے سفر کا دوست کم رفتار سے میں بھی خوش ہوتا ہوں تیرے عارضی انکار سے آنکھ لگنے کی ذرا سی دیر تھی بس اور پھر کٹ گیا دریائے شب بھی خواب کے پتوار سے میری قربت میں مرا گھر بھی فسردہ ہو گیا اشک گرنے لگ گئے ہیں دیدۂ دیوار سے ایک میسج نفرتوں پر بار گزرا ہے مری پھول بھیجا ہے ...

مزید پڑھیے

وقت کو خوش نما بناتے ہیں

وقت کو خوش نما بناتے ہیں آئیے قہقہہ بناتے ہیں اس نے سب کچھ بنا کے بھیجا ہے ہم یہاں کیا نیا بناتے ہیں چل خلاؤں میں گھومتے ہیں کہیں چاند پر نقش پا بناتے ہیں دیکھنا ہے نئے یہ کوزہ گر میری مٹی کا کیا بناتے ہیں میں چراغوں میں لو بناتا ہوں دنیا والے ہوا بناتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 4924 سے 6203