قومی زبان

دل کو اب ہجر کے لمحات میں ڈر لگتا ہے

دل کو اب ہجر کے لمحات میں ڈر لگتا ہے گھر اکیلا ہو تو پھر رات میں ڈر لگتا ہے ایک تصویر سے رہتا ہوں مخاطب گھنٹوں جب بھی تنہائی کے حالات میں ڈر لگتا ہے میری آنکھوں سے مرے جھوٹ عیاں ہوتے ہیں اس لیے تجھ سے ملاقات میں ڈر لگتا ہے لمحۂ قرب میں لگتا ہے بچھڑ جائیں گے ہاتھ جب بھی ہو ترے ...

مزید پڑھیے

اب اور دم نہ گھٹے روشنی کا کمرے میں (ردیف .. و)

اب اور دم نہ گھٹے روشنی کا کمرے میں دریچے وا ہوں اجالوں کی دوڑ پوری ہو جو خواب آئیں تو دیکھوں تجھے میں جی بھر کے کہ نیند آئے تو خوابوں کی دوڑ پوری ہو کوئی بڑھائے ذرا آسمان کی وسعت میں چاہتا ہوں پرندوں کی دوڑ پوری ہو کسی عذاب سے رک جائے رقص قاتل کا گھروں کو لوٹتے بچوں کی دوڑ پوری ...

مزید پڑھیے

اس کی قربت میں ہوا ہے یہ خسارا میرا

اس کی قربت میں ہوا ہے یہ خسارا میرا آپ پڑھ لیجیے ہر آنکھ میں قصہ میرا ہر نئی سانس پے بنتا ہوں بگڑ جاتا ہوں یہ ہوا ختم ہی کر دے نہ تماشہ میرا اب تو ہونٹوں پے کبھی پھول بھی کھل جاتے ہیں آپ نے ان دنوں دیکھا نہیں چہرہ میرا میں نے رو رو کے اسے غیر کا ہونے نہ دیا اس بلا خیز کو زنجیر تھا ...

مزید پڑھیے

ایک پتھر رکھ لیا ہے سینۂ صد چاک پر

ایک پتھر رکھ لیا ہے سینۂ صد چاک پر ضبط کا پہرہ لگایا دیدۂ نمناک پر کون ہے جس پر نہیں کھلتا مرا دست ہنر کس کی مٹی ایک مدت سے رکھی ہے چاک پر چار دن میں ہی حقیقت کی زمیں پر آ گرا چار دن میں بھی اڑا تھا عشق کے افلاک پر یہ خزاں پیڑوں سے پتے دل سے خوشیاں لے گئی زور کچھ بھی چل نہ پایا ...

مزید پڑھیے

راہبر راہنما کوئی نہیں ہوتا ہے

راہبر راہنما کوئی نہیں ہوتا ہے راہ الفت میں سگا کوئی نہیں ہوتا ہے مجھ کو خلوت میں بھی تم یاد نہیں آتے ہو خود پسندی سے برا کوئی نہیں ہوتا ہے دکھ کے موسم میں دلاسے کے لیے میرے ساتھ یا تو میں ہوتا ہوں یا کوئی نہیں ہوتا ہے ہم یتیموں کو دعا راس نہیں آتی ہیں ہم یتیموں کا خدا کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

شب سیاہ گزرتی ہے کن عذابوں میں

شب سیاہ گزرتی ہے کن عذابوں میں بکھرتے شہر کے منظر ہیں میرے خوابوں میں یہ آپ گنیے کی لاشیں کدھر زیادہ ہیں میں تنگ دست ہوں اس طرح کے حسابوں میں لکھا ہوا تھا کہ اک دوسرے سے پیار کرو جلے گھروں سے ملی ادھ جلی کتابوں میں سکوں کا کوئی بھی لمحہ ہمیں نصیب نہیں خوشی کی کوئی بھی سرگم نہیں ...

مزید پڑھیے

معبود سے

ابتدا ہو گئی موت کے گیت کی ہے ہواؤں میں دھن دکھ کے سنگیت کی شہر دکھنے لگا ہے بیابان سا رات سنسان سی دن پریشان سا ساری مانوس گلیاں ہیں انجان سی زندگی چند لمحوں کی مہمان سی میرے معبود سانسیں بدن کے لیے ایک زنجیر من کے ہرن کے لیے دے چھناکا کوئی خامشی کے لیے کوئی جملہ کسی کی ہنسی کے ...

مزید پڑھیے

دلی دنگوں کے بیچ

دھرم کے نام پے قاتل کی حمایت کرنا اور پھر ملک کے جلنے کی شکایت کرنا کتنا آسان ہے ہندو و مسلماں ہونا صرف مشکل ہے کسی شخص کا انساں ہونا ظلم کی دھوپ و امکاں بھی نہیں چھاؤں کا ایک سا حال ہے اب گاؤں کا صحراؤں کا ایسے حالات میں آنکھوں میں لہو کو لاؤ نغمۂ عشق کو سب زور سے گاؤ گاؤ کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

رفتگاں کا پتا

وہ سارے رشتہ جنہیں تمہارے قریب آ کر بھلا دیا تھا وہ سب مراسم کہ جن کو میں نے تمہاری قربت میں توڑ ڈالا تمہاری زلفوں کا سایہ پا کر کے جن درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں سے اٹھ گیا تھا وہ ساری آنکھیں جو راہ الفت پہ میری آمد کی منتظر تھیں وہ سارے پاؤں جو ساتھ چلنے کی خواہشوں میں کھڑے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اداس آنکھوں کی سالگرہ

ایک نظم کہنی ہے دو اداس آنکھوں پر جیسے گل کھلانا ہو زرد زرد شاخوں پر میرے کاسۂ فن میں ٹوٹے پھوٹے مصرعے ہیں اور دسترس میں دوست کچھ خیال دھندھلے ہے اور ان خیالوں میں ایک التجا بھی ہے التجا بھی اتنی بس ہونٹوں پے لگی چپ کو آپ تج دیا کیجے ایک دو مہینے میں کھل کے ہنس لیا کیجے اور یہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4923 سے 6203