قومی زبان

نہ مل سکا تری لہروں میں بھی قرار مجھے

نہ مل سکا تری لہروں میں بھی قرار مجھے سمندر اپنی تہوں میں ذرا اتار مجھے ہوا کے پاؤں کی آہٹ گلاب کی چیخیں سنی ہیں میں نے عدالت ذرا پکار مجھے میں بار بار ترے واسطے بکھر جاؤں تو بار بار مرے آئینے سنوار مجھے فلک کو توڑ دوں میں اپنی آہ سے لیکن زمین والوں سے بے انتہا ہے پیار مجھے اک ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ گرے اٹھے بار بار چلے

قدم قدم پہ گرے اٹھے بار بار چلے تمام عمر اسی طور ہم گزار چلے زمانہ گزرا کہ دل نذر حادثات ہوا اب ایک جاں تھی اسے زندگی پہ وار چلے فزوں کچھ اور ہوا بندشوں سے جوش جنوں رہا ہوئے جو قفس سے تو سوئے دار چلے ادائے لغزش رندان بادہ مست کہاں مچل مچل کے نسیم چمن ہزار چلے رکوں تو گردش شام و ...

مزید پڑھیے

ہمارا ذکر اور ان کی زباں سے

ہمارا ذکر اور ان کی زباں سے کہاں نسبت زمیں کو آسماں سے کہوں کیونکر نظر سے تو نہاں ہے پتا اپنا ملا تیرے نشاں سے ہوا یوں بھی کہ اس کی سمت اکثر چلے اور لوٹ آئے درمیاں سے جلیں جب فصل گل میں بھی نشیمن تو پھر کیا کیجئے شکوہ خزاں سے فریب زندگی کھائیں کہاں تک چرائیں آنکھ مرگ ناگہاں ...

مزید پڑھیے

رو بہ رو سب ہیں کوئی گوش بر آواز نہیں

رو بہ رو سب ہیں کوئی گوش بر آواز نہیں یہ وہ انجام ہے جس کا ابھی آغاز نہیں عرصۂ حشر ہے یا رب کہ ہے بزم گیتی کسی آواز میں شامل کوئی آواز نہیں وقت مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتا میں ابھی وقت کے آگے سپر انداز نہیں دل ہر ذرہ کی دھڑکن میں سمک تا بہ‌‌ سما بازگشت اس کی ہے جس کی کوئی آواز ...

مزید پڑھیے

عجیب لوگ ہیں گل کرکے زندگی کے چراغ

عجیب لوگ ہیں گل کرکے زندگی کے چراغ جلائے بیٹھے ہیں اپنے گھروں میں گھی کے چراغ بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں مہر و ماہ و نجوم ہر ایک سمت فروزاں ہیں تیرگی کے چراغ نظر نظر میں دئے حسرتوں کے لرزاں ہیں قدم قدم پہ ہیں رقصاں فسردگی کے چراغ چمن میں زاغ و زغن کی بپا وہ شورش ہے کہ چھن گئے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر قدم تھے نئے صیاد نئے دام کے ساتھ

ہر قدم تھے نئے صیاد نئے دام کے ساتھ دور ہوتی گئی منزل مری ہر گام کے ساتھ جسم محبوس ہے اور حکم زباں بندی ہے کتنے الزام ہیں وابستہ مرے نام کے ساتھ نشۂ تلخیٔ دوراں کا اثر کیا کہنا زندگی رقص میں ہے گردش ایام کے ساتھ اتنی خوش رنگ یہ کافر کبھی پہلے تو نہ تھی خون حسرت تو نہیں ہے مئے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص بظاہر جو آشنا نہ لگے

وہ ایک شخص بظاہر جو آشنا نہ لگے وفا کا نام نہ لے اور بے وفا نہ لگے مرا خلوص کہ اعجاز حسن یار ہے یہ جہاں بھی سجدہ کروں اس کا آستانہ لگے حیات عین حقیقت سہی بہ فیض نگاہ حیات پھر بھی حقیقت میں کیوں فسانہ لگے خدا کرے نہ ہو محروم یوں جہاں میں کوئی دوا جسے نہ میسر ہو اور دعا نہ لگے نہ ...

مزید پڑھیے

فروغ کثرت جلوہ سے خود تماشا ہوں

فروغ کثرت جلوہ سے خود تماشا ہوں میں اس کے سامنے بیٹھا ہوں اور تنہا ہوں نگاہ شوق و دل مضطرب ہیں زاد سفر شکستہ پا ہوں سر رہ گزار بیٹھا ہوں بڑھاؤں دست طلب کیا کہ ظرف مانع ہے لب فرات کھڑا ہوں میں اور پیاسا ہوں میں اپنی ذات میں اک کائنات ہوں خود بھی اگرچہ ذرہ ہوں لیکن محیط صحرا ...

مزید پڑھیے

سلگتی ریت کی قسمت میں دریا لکھ دیا جائے

سلگتی ریت کی قسمت میں دریا لکھ دیا جائے مجھے ان جھیل سی آنکھوں میں رہنا لکھ دیا جائے تری زلفوں کے سائے میں اگر جی لوں میں پل دو پل نہ ہو پھر غم جو میرے نام صحرا لکھ دیا جائے مرا اور اس کا ملنا اب تو نا ممکن سا لگتا ہے اسے سورج مجھے شب کا ستارا لکھ دیا جائے اکیلا میں ہی کیوں آخر ...

مزید پڑھیے

مری زندگی کسی موڑ پر کبھی آنسوؤں سے وفا نہ دے

مری زندگی کسی موڑ پر کبھی آنسوؤں سے وفا نہ دے تری آنکھ کی یہ گھٹا کہیں یوں برس کے مجھ کو رلا نہ دے وہی چھاؤں نیم کے پیڑ کی وہی شام دے یہ فضا نہ دے گئے موسموں کا اسیر ہوں نئے موسموں کی سزا نہ دے مرے ناخدا ترا شکریہ کوئی اور مجھ پہ کرم نہ کر تری مصلحت کی ہوا کہیں مرا بادبان اڑا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4857 سے 6203