قومی زبان

کچھ تو مایوس دل تیرے بس میں بھی ہے

کچھ تو مایوس دل تیرے بس میں بھی ہے زندگی کا ہنر خار و خس میں بھی ہے آپ کا جو ارادہ ہو کہہ دیجئے دل ابھی کچھ میری دسترس میں بھی ہے تیری مرضی سے میں مانگتا ہوں تجھے میرا کردار میری ہوس میں بھی ہے آ کہ ٹوٹے تعلق کو پھر جوڑ لیں تیرے بس میں بھی ہے میرے بس میں بھی ہے شہر گل میں بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

کیسے رفو ہوں چاک گریباں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

کیسے رفو ہوں چاک گریباں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ اپنے اپنے درد کا درماں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جس کے لئے اک عمر سے لمبی کاٹی ہم نے کالی رات صبح وہ کیوں ہے شام بداماں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ میرے لہو سے نقش ہوئی ہے میری ہی تصویر مگر کس کا ہے یہ شوق نگاراں میں بھی سوچوں تو بھی ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے تو کہاں ٹھہرے آخر مری بینائی

ٹھہرے تو کہاں ٹھہرے آخر مری بینائی ہر شخص تماشا ہے ہر شخص تماشائی یہ حسن کا دھوکا بھی دل کے لئے کافی تھا چھونے کے لئے کب تھی مہتاب کی اونچائی آئینے کی حاجت سے انکار نہیں لیکن اس درجہ نہ تھا پہلے دستور خود آرائی سرمایۂ دل آخر اور اس کے سوا کیا ہے ہر درد سے رشتہ ہے ہر غم سے ...

مزید پڑھیے

دور تا حد نظر آب شجر کچھ بھی نہیں

دور تا حد نظر آب شجر کچھ بھی نہیں جانے کیا کیا تھا نگاہوں میں مگر کچھ بھی نہیں جس کی تکمیل میں اک عمر ہوئی اپنی تمام وقت آیا تو وہ سامان سفر کچھ بھی نہیں دور تک پھیل گئی زخم چٹکنے کی صدا وہ بہت پاس تھا اور اس کو خبر کچھ بھی نہیں ہر نفس کرب کے جنگل میں بھٹکنے کے سوا آگہی کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

خزانہ لطف کا جیسے نفس نفس میں تھا

خزانہ لطف کا جیسے نفس نفس میں تھا عجب سرور کا عالم میری ہوس میں تھا وہاں بھی لوگ اجالوں پہ ناز کرتے تھے ہر آفتاب جہاں تیرگی کے بس میں تھا پھرے بھی دن تو اسے پتھروں کے پاؤں ملے وہ ایک پھول جو مدت سے خار و خس میں تھا تھکن نہیں تھی یہ تھا بے حسی کا سناٹا عجیب کرب سا اک نالۂ جرس میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں ہر سانس دشواری لگے ہے

ہمیں ہر سانس دشواری لگے ہے مگر یہ زندگی پیاری لگے ہے تمہیں دھوکا سحر کا ہے تو ہوگا ہمیں تو رات اندھیاری لگے ہے مرے ملبوس پر چھینٹے لہو کے ترے دامن کی گلکاری لگے ہے زباں شاید یہی شرفا کی ٹھہرے تمہیں جو آج بازاری لگے ہے وفا کیا ہے یہ تم اس دل سے پوچھو کہ جس دل کو یہ بیماری لگے ...

مزید پڑھیے

سینۂ سنگ میں ڈھونڈھتا ہے گداز

سینۂ سنگ میں ڈھونڈھتا ہے گداز دے خدا دل کو اک اور عمر دراز ہم دکھانا بھی چاہیں اگر کچھ کو کچھ آئنوں سے کریں کس طرح ساز باز اک طرف خواب ہے اک طرف زندگی دیکھیے کون ہوتا ہے اب سرفراز تیرے غم سے ملی دل کو وہ زندگی تجھ سے بھی کر دیا ہے ہمیں بے نیاز اس طرح میری آنکھوں سے آنسو بہے بے ...

مزید پڑھیے

سنتا رہا ہے اور سنے گا جہاں مجھے

سنتا رہا ہے اور سنے گا جہاں مجھے یوں رکھ گیا ہے کوئی سر داستاں مجھے سقراط کیا مسیح کیا ذکر حسین کیا ماضی سنا رہا ہے مری داستاں مجھے بے نور میرے بعد ہوئی بزم کائنات تم تو بتا رہے تھے بہت رائیگاں مجھے موجوں سے ایک عمر رہا معرکہ مگر غرقاب کر گئیں مری گہرائیاں مجھے کس کو گماں تھا ...

مزید پڑھیے

جانتے تھے غم ترا دریا بھی تھا گہرا بھی تھا

جانتے تھے غم ترا دریا بھی تھا گہرا بھی تھا ڈوبنے سے پیشتر سوچا بھی تھا سمجھا بھی تھا آئنہ اے کاش تو اپنا بنا لیتا مجھے فائدہ اس میں بہت تیرا بھی تھا میرا بھی تھا اک عذاب جان تھی اس کی تنک خوئی مگر ذائقہ اس درد کا میٹھا بھی تھا تیکھا بھی تھا کیسے پڑھ لیتا میں اس چہرہ سے اپنا حال ...

مزید پڑھیے

والدین کا سعادت مند ہونا

کسی صاحب نے ایک بارمجاز سے پوچھا ۔ ’’کیوں صاحب! آپ کے والدین آپ کی رندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے ؟‘‘ ’’جی نہیں۔‘‘ مجاز بولے۔ ’’کیوں...؟‘‘ ’’لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے لیکن خوش قسمتی سے میرے والدین سعادت مند ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے
صفحہ 4858 سے 6203