کچھ تو مایوس دل تیرے بس میں بھی ہے
کچھ تو مایوس دل تیرے بس میں بھی ہے زندگی کا ہنر خار و خس میں بھی ہے آپ کا جو ارادہ ہو کہہ دیجئے دل ابھی کچھ میری دسترس میں بھی ہے تیری مرضی سے میں مانگتا ہوں تجھے میرا کردار میری ہوس میں بھی ہے آ کہ ٹوٹے تعلق کو پھر جوڑ لیں تیرے بس میں بھی ہے میرے بس میں بھی ہے شہر گل میں بھی ہیں ...