شغل مے چھوڑیئے اٹھ آئیے مے خانوں سے
شغل مے چھوڑیئے اٹھ آئیے مے خانوں سے شعلے کچھ دور نہیں آپ کے ایوانوں سے دیکھنا رنگ گلستاں ہی بدل ڈالیں گے اب کے پلٹے جو یہ دیوانے بیابانوں سے مطمئن آپ نہ ہوں بھیج کے زنداں میں ہمیں انقلابات اٹھا کرتے ہیں زندانوں سے وقت کی بات قفس میں بھی ٹھکانہ نہ رہا ہو چلا تھا ہمیں جب انس ...