میں چھپا رہوں گا نگاہ و زخم کی اوٹ میں (ردیف .. ا)
میں چھپا رہوں گا نگاہ و زخم کی اوٹ میں کسی اور شخص سے دل لگا کے بھی دیکھنا سر شاخ دل کوئی زخم ہے کہ گلاب ہے مری جاں کی رگ کے قریب آ کے بھی دیکھنا کوئی تارہ چپکے سے رکھنا اس کی ہتھیلی پر وہ اداس ہے تو اسے ہنسا کے بھی دیکھنا وہ جو شام تیری پلک پہ آ کے ٹھہر گئی مری روشنی کی حدوں میں ...