قومی زبان

پیارے بچوں کی پیاری تمنائیں

گو اڑاتے ہیں ابھی دھولیں ہم چاہتے ہیں کہ فلک چھو لیں ہم ہو بزرگوں کی دعاؤں میں اثر باغ ہستی میں پھلیں پھولیں ہم علم کا شوق ہو دل میں اتنا سبق اپنا نہ کبھی بھولیں ہم شاد و آباد رہے یہ بچپن اور جھولوں پہ یونہی جھولیں ہم قوت خیر عطا ہو اتنی ڈھیلی شر کی کریں سب چولیں ہم اپنی ...

مزید پڑھیے

منے کی ناؤ

دادی کے پاس آ کے منے لگا یہ کہنے دیکھو تو پیاری دادی کیا ہے بنایا میں نے کاغذ وہ ریشمیں جو تم نے دیا تھا دادی یہ دیکھو میں اس کی اک ناؤ ہے بنا دی لیکن بتاؤ مجھ کو کیسے اسے چلاؤں تالاب یا ندی یا نالہ کہاں سے لاؤں ہنس کر یہ بولیں دادی ٹھہرو ذرا سا بیٹا لاؤ کچن سے جا کر تسلا جو ہے ...

مزید پڑھیے

دیے اپنی ضو پہ جو اترا رہے ہیں

دیے اپنی ضو پہ جو اترا رہے ہیں اندھیرے محافظ ہوئے جا رہے ہیں جو ہم دل کے دل میں ہی دفنا رہے ہیں وہ اسرار خود ہی کھلے جا رہے ہیں انہیں بھولنا اتنا آساں نہ ہوگا مری زندگی جو ہوئے جا رہے ہیں تمہاری صداقت کی ہے یہ ہی قیمت ہم الزام سر پہ لیے جا رہے ہیں ہمی سے ہے غافل ہمارا مسیحا ادھر ...

مزید پڑھیے

وہ بات جس سے یہ ڈر تھا کھلی تو جاں لے گی

وہ بات جس سے یہ ڈر تھا کھلی تو جاں لے گی سو اب یہ دیکھیے جا کے وہ دم کہاں لے گی ملے گی جلنے سے فرصت ہمیں تو سوچیں گے پناہ راکھ ہماری کہاں کہاں لے گی یہ آگ جس نے جلائے ہیں شہروں جنگل سب کبھی بجھے گی تو یہ صورت خزاں لے گی یہ دن جو تھا یہ رہا ہیں گواہ وعدوں کا یہ شب جو ہے ترے دعووں کا ...

مزید پڑھیے

جو تکبر سے بھٹکتی ہے زباں

جو تکبر سے بھٹکتی ہے زباں آگے آگے پھر بہکتی ہے زباں ہو گیا ناسور ہر اک لفظ ہے بولتا ہوں پکنے لگتی ہے زباں جلد سے چھن چھن کے بہتے ہیں خیال اور آنکھوں سے چھلکتی ہے زباں نام جاں کتنا گراں ہے جان پہ حلق گلتا ہے پگھلتی ہے زباں معجزہ ہے یہ بھی اس کے قول کا بوند بن کر جو برستی ہے ...

مزید پڑھیے

ایک وہ ہی شخص مجھ کو اب گوارہ بھی نہیں

ایک وہ ہی شخص مجھ کو اب گوارہ بھی نہیں جبر یہ اس کے سوا اپنا گزارہ بھی نہیں شکل ہجرت رنگ لائیں آخرش سب کوششیں ہم اگر لوٹے نہیں اس نے پکارا بھی نہیں جس پہ تم خاموش ہو بس اک ذرا سی بات تھی بات بھی ایسی کہ جس میں کچھ خسارہ بھی نہیں ہیں عجب دریا میں ہم جو درمیاں سے خشک ہے اور عجب تو ...

مزید پڑھیے

عشق پاگل پن میں سنجیدہ نہ ہو جائے کہیں

عشق پاگل پن میں سنجیدہ نہ ہو جائے کہیں مجھ کو ڈر ہے تو میرے جیسا نہ ہو جائے کہیں فصل گل میں ہے شجر کو فکر نے تنہا کیا فصل گل کے باد وہ تنہا نہ ہو جائے کہیں تتلیوں سے ہم ریا کاری گلوں کی کہہ تو دیں ڈر یہی ہے شوخ پھر سادہ نہ ہو جائے کہیں ہم مداوا اپنے غم کا اس لئے کرتے نہیں خود مسیحا ...

مزید پڑھیے

دنیا سے ہوئے بیٹھے ہو روپوش اے جانا

دنیا سے ہوئے بیٹھے ہو روپوش اے جانا جلوہ بھی سر عام ہے پرجوش اے جانا دن دشت میں اچھے سے گزر جاتا ہے اکثر جب آتا ہے یاد عالم آغوش اے جانا یہ لوگ شب ہجر بلکھتے تھے جو بے حد محشر سے گزر آئے ہے خاموش اے جانا کل رات تو تم بھی تھے ہمیں یاد بہ ترتیب آج اٹھے ہیں خود سے ہی فراموش اے ...

مزید پڑھیے

دم بہ دم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو

دم بہ دم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو جیسے آئے دبے پاؤں سیل بلا شہر والو سنو خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا اس کو کیا ہو گیا دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شہر والو سنو یہ جو راتوں میں پھرتا ہے تنہا بہت ہے اکیلا بہت ہو سکے تو کبھی اس کا بھی ماجرا شہر والو سنو یہ ہمیں میں سے ہے ...

مزید پڑھیے

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے کس کے لیے یہ حال ہے اس کا کون ایسا ہرجائی ہے کس کے لیے پھرتا ہے اکیلا شہر کے ہنگاموں سے دور کون ہے جس کی خاطر اس کو تنہائی راس آئی ہے کس کے لب و رخسار کی باتیں ڈھل جاتی ہیں غزلوں میں کس کے خم کاکل کی کہانی وجہ سخن آرائی ہے کون ہے جس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4840 سے 6203