قومی زبان

میں انسان نوع ہوں میں عیسیٰ نفس ہوں (ردیف .. ا)

میں انسان نوع ہوں میں عیسیٰ نفس ہوں زمیں سے تمہاری میں پھر کل اٹھوں گا میں آدم ہوں بے جاں سا پتھر نہیں ہوں بھنور سا ہوں صحرا میں پل پل اٹھوں گا ہوں دریا کا پانی کہ جب بھی مروں گا سمندر کی بن کے میں ہلچل اٹھوں گا کبھی کی جو سورج نے وعدہ خلافی یہ ہے میرا وعدہ کے میں جل اٹھوں ...

مزید پڑھیے

میں اپنی خاک کو جب آئنہ بناتا ہوں

میں اپنی خاک کو جب آئنہ بناتا ہوں تو اس کے واسطے دل بھی نیا بناتا ہوں ہر اک پرند رہے تا ابد یہاں شاداب اسی لئے میں شجر بھی ہرا بناتا ہوں بھٹک نہ جائے کہیں شہر غم میں اپنا دل سو تیرے خواب کو میں رہنما بناتا ہوں کرے نہ کیوں یہ ترے دل میں گھر مرے ہمدم میں اپنے شعر کو درد آشنا بناتا ...

مزید پڑھیے

آئی ہے جانے کیسے علاقوں سے روشنی

آئی ہے جانے کیسے علاقوں سے روشنی اور ڈھونڈھتی ہے کس کو زمانوں سے روشنی ہو کر رہی وہ ایک زمانے پہ منکشف دیوار سے رکی نہ دریچوں سے روشنی موج یقیں کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر وہ لو جسے ملی ہے گمانوں سے روشنی کرتے ہیں آج اس پہ مہ و آفتاب رشک آنکھوں کو جو ملی ترے خوابوں سے روشنی مہکی ...

مزید پڑھیے

میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا

میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا جو ٹوٹی پھوٹی سی کشتیوں کو چلا رہا تھا تمہارے جانے کے بعد بالکل ہنسا نہیں میں شکستہ پا ہو کے اپنے اندر کو کھا رہا تھا وہ بند کمرے میں میری یادیں پرو رہی تھی میں بزم امکاں سے خواب جس کے اٹھا رہا تھا مری نگہ میں یہ ایک منظر رکا ہوا ہے کہ ایک ...

مزید پڑھیے

شجر سے مل کے جو رونے لگا تھا

شجر سے مل کے جو رونے لگا تھا پرندہ ڈار سے بچھڑا ہوا تھا ٹھہرتا ہی نہ تھا دریا کہیں پر مگر تصویر میں دیکھا گیا تھا میں تشنہ لب اگرچہ لوٹ آیا مگر دریا کو یہ مہنگا پڑا تھا درون دل خلش ایسی کھلی تھی کہ جس کا رنگ چہرے پر اڑا تھا میں جب نکلا تمنا کے سفر پر مرے رستے میں اک صحرا پڑا ...

مزید پڑھیے

کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں

کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں جو بے مثال رہا آپ اپنی تابش میں وہ ایک دن ہی مری زندگی کا حاصل ہے کہ میرے پاس کوئی رک گیا تھا بارش میں بس ایک جھیل ہے اور پیڑ کا گھنا سایا سلگ رہے ہیں کئی لوگ جن کی خواہش میں کبھی ہوا جو کہیں پر غزل سرا میں بھی تو میرے یار جلے ہیں حسد کی آتش ...

مزید پڑھیے

بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا

بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا بدن اتنا کبھی سونا نہیں تھا وہ کیسی شب تھی جو کالی نہیں تھی وہ کیسا دن تھا جو اجلا نہیں تھا یہ ویرانہ نہ تھا ویران اتنا یہ صحرا اس قدر صحرا نہیں تھا وہ سب کچھ سوچنا اب پڑ رہا ہے ترے بارے میں جو سوچا نہیں تھا کسی اک زخم کے لب کھل گئے تھے میں اتنی ...

مزید پڑھیے

جو نظر آنا سکیں ایسے بھی منظر دیکھیں

جو نظر آنا سکیں ایسے بھی منظر دیکھیں دیکھنے والے کبھی اپنے بھی اندر دیکھیں رنگ کے جسم چھوئیں نور کے پیکر دیکھیں خواب کی شہر پناہوں میں اتر کر دیکھیں وقت نے سب سے بڑا وار کیا ہے ہم پر کس بلندی سے گراتا ہے مقدر دیکھیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا رد عمل ہوتا ہے اپنے ہم زاد کو پہلو سے جھٹک ...

مزید پڑھیے

تیرا ہی نشان پا رہا ہوں میں

تیرا ہی نشان پا رہا ہوں میں یہ پہاڑ جو اٹھا رہا ہوں میں ایک عمر کی منافرت کے بعد اب تجھے سمجھ میں آ رہا ہوں میں تو ادھر سے آ جدھر رکے ہیں سب دوسری طرف سے آ رہا ہوں میں ایک پل کبھی تو تھم مرے لیے ساری عمر دوڑتا رہا ہوں میں میری نا رسائیوں کی حد ہے یہ اپنے سامنے سے آ رہا ہوں میں

مزید پڑھیے

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا متاع چشم تمنا یہ اشک اور یہ خاک رگ خیال سے اس کو طلوع کرنا تھا نگاہ اور چراغ اور یہ اثاثۂ جاں تمام ہوتی ہوئی شب کے نام کرنا تھا گریز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4838 سے 6203