قومی زبان

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک روح کے سناٹے میں سنتا ہوں میں اندر باہر دستک اب تک ہر شب سوتے سوتے چونک اٹھتا ہوں تنہائی میں مدت بیتی میں نے سنی تھی اک شب اپنے در پر دستک شام کا ڈھلتا سورج دور افق پر ٹھہرا سوچ رہا ہے کب شب بیتے اور وہ دے پھر صبح کے دروازے پر ...

مزید پڑھیے

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا تم چمکتی کار پھولوں کی مہک اک ...

مزید پڑھیے

اس دور میں جسموں کے خریدار بہت ہیں

اس دور میں جسموں کے خریدار بہت ہیں ہر سمت گناہوں کے بھی بازار بہت ہیں بالیدگیاں روح ادب میں تو سمیٹو اسلاف کے اس ہند میں آثار بہت ہیں تحقیق تمہاری یہ ادھوری ہی رہے گی قدرت کے جہاں میں ابھی اسرار بہت ہیں تم شوق سے شہروں کے اجالوں سے ہو محظوظ میرے لئے پاتال ضیا بار بہت ...

مزید پڑھیے

خوابوں کو لباس دے رہا ہوں

خوابوں کو لباس دے رہا ہوں زخموں کی کپاس دے رہا ہوں سیرابیٔ درد و غم کی خاطر اشکوں کا گلاس دے رہا ہوں تم روح کو عطر بیز کر لو میں خلد کی باس دے رہا ہوں ایقاں کی پھٹی لحد میں جا کر میں خاک قیاس دے رہا ہوں ہے کذب کے بحر میں روانی اب صدق کی پیاس دے رہا ہوں سرسبز رہے گا فن کا ...

مزید پڑھیے

کہتا ہے کون سنگ و شجر بولتے نہیں

کہتا ہے کون سنگ و شجر بولتے نہیں وہ بولتے ہیں جب تو بشر بولتے نہیں تعمیل حکم رب میں ہیں مصروف رات دن اس واسطے یہ شمس و قمر بولتے نہیں گاؤں کے ذرے ذرے میں ہے شور و غل مگر بازار چپ ہے اور نگر بولتے نہیں پل پل کی ہے خبر انہیں پھر بھی نہ جانے کیوں دیوار بے زبان ہے در بولتے ...

مزید پڑھیے

شاخ جذبات پہ نغمات کا منظر خاموش

شاخ جذبات پہ نغمات کا منظر خاموش غم کی آغوش میں ارماں کا کبوتر خاموش نیند روتی رہی سنسان کھنڈر میں چھپ کر قصر شاہی کا حسیں مخملیں بستر خاموش سرخ آندھی چلی اس بار ہلاکت کی عجب غرق امواج ہوئیں اور سمندر خاموش سکہ بیٹھا تھا اس انساں کی وفا کا ایسا شرک بے ہوش تھا اور ظلم کا لشکر ...

مزید پڑھیے

زیست میری عذاب ہو جیسے

زیست میری عذاب ہو جیسے موت دل کش گلاب ہو جیسے مثل اوراق ہیں سبھی انساں اور دنیا کتاب ہو جیسے شوق سے کھا رہے ہیں سب حیواں ایک مردہ کباب ہو جیسے آنکھ دھرتی کی سرخ ہونے لگی نور انجم شراب ہو جیسے کب سے شعلوں پہ سو رہا تھا مگر اب بھی وہ نیم خواب ہو جیسے پنکھڑی پھول کی ہے پژمردہ باد ...

مزید پڑھیے

جسم جب بادل کا سادہ ہو گیا

جسم جب بادل کا سادہ ہو گیا ذہن سورج کا کشادہ ہو گیا چشم منظر سے جو نکلا ہے لہو زرد پیپل کا لبادہ ہو گیا ہر طرف چھانے لگیں مدہوشیاں اشک بلبل جب کہ بادہ ہو گیا سارے میوے گر گئے اس پیڑ سے بوجھ کس شے کا زیادہ ہو گیا قطرۂ ناچیز قدسیؔ شاد ہے سیپ کا سینہ کشادہ ہو گیا

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص مرا ہم مزاج پہلے تھا

وہ ایک شخص مرا ہم مزاج پہلے تھا بدل گیا وہی کل میں جو آج پہلے تھا بشر کی پیاس بشر کے لہو سے بجھتی ہے جہاں میں کیا یہی خونی رواج پہلے تھا تمام وقت گزرتا ہے لغویات میں اب ہمارے سر پہ بہت کام کاج پہلے تھا یہ ایسا دور کہ انسانیت بلکتی ہے سکوں سے پر بڑا سادہ سماج پہلے تھا نہ دیکھی ...

مزید پڑھیے

دل کا گلشن جلا گئے کانٹے

دل کا گلشن جلا گئے کانٹے ان کی یادیں مٹا گئے کانٹے اب ضرورت نہیں رہی گل کی اتنی کثرت سے آ گئے کانٹے زیست میں رہ گئی چبھن ہی چبھن ایسا قبضہ جما گئے کانٹے گل ہی کیا گلستاں بھی حیراں ہے اس قدر مجھ کو بھا گئے کانٹے اب تو خوشیوں کی بو نہیں ملتی ہر طرف غم کے چھا گئے کانٹے ان پہ کلیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4823 سے 6203