دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک
دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک روح کے سناٹے میں سنتا ہوں میں اندر باہر دستک اب تک ہر شب سوتے سوتے چونک اٹھتا ہوں تنہائی میں مدت بیتی میں نے سنی تھی اک شب اپنے در پر دستک شام کا ڈھلتا سورج دور افق پر ٹھہرا سوچ رہا ہے کب شب بیتے اور وہ دے پھر صبح کے دروازے پر ...