قومی زبان

ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں

ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں فزوں ہو اور بھی دل میں تری طلب کا فسوں تمہارے جسم کی جنت تو مل گئی ہے مگر میں اپنی روح کی دوزخ کا کیا علاج کروں ہنسا ہوں آج تو مجبور تھا کہ تیرے حضور مجھے یہ ڈر تھا اگر چپ رہا تو رو نہ پڑوں تمام عمر نہ بھٹکے کہیں تو میری طرح ہوں کشمکش میں جو ...

مزید پڑھیے

اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا میرے اندر جو نہ تھا اس کو بیاں میں نے کیا سر پہ جب سایا رہا کوئی نہ دوران سفر اس کی یادوں کو پھر اپنا سائباں میں نے کیا اب یہاں پر سانس تک لینا مجھے دشوار ہے کس تمنا پر زمیں کو آسماں میں نے کیا لمحہ لمحہ وقت کے ہاتھوں کیا خود کو سپرد سب گنوا ...

مزید پڑھیے

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا میرے اندر بسنے والا سایا تھا وہ دکھ بھی کیوں ہم کو تنہا چھوڑ گئے کیا کیا چھوڑ کے ہم نے جنہیں اپنایا تھا خود تم نے دروازے بند رکھے ورنہ میں اک تازہ ہوا کا جھونکا لایا تھا میری اک آواز سے ساری ٹوٹ گئی وہ دیواریں جن پر تو اترایا تھا ویراں دل میں غم ...

مزید پڑھیے

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں میں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیں پل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں مجھ سے مژدہ نئی رتوں کا پاؤ گے یارو میں اس پیڑ کا انتم پتا ہوں شاید تم بھی اب نہ مجھے پہچان سکو اب میں خود کو اپنے جیسا لگتا ہوں آج کے کالے سائے ...

مزید پڑھیے

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں سبھی یہ سوچ رہے ہیں کہ مرنے والا ہوں کسی کی یاد کا مہتاب ڈوبنے کو ہے میں پھر سے شب کی تہوں میں اترنے والا ہوں سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں مجھے ڈبونے کا منظر حسین تھا لیکن حسین تر ہے یہ منظر ابھرنے ...

مزید پڑھیے

وہ روح کے گنبد میں صدا بن کے ملے گا

وہ روح کے گنبد میں صدا بن کے ملے گا اک دن وہ مجھے میرا خدا بن کے ملے گا بھٹکوں گا میں اس شہر کی گلیوں میں اکیلا وہ مجھ کو مرے دل کا خلا بن کے ملے گا وہ دور بھی آئے گا کہ ہر لمحۂ ہستی مجھ سے ترے ملنے کی دعا بن کے ملے گا کس زعم سے بچھڑا ہے مگر دیکھنا یہ بھی تو خود سے خود اپنی ہی سزا بن ...

مزید پڑھیے

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو بدن کے سونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو میں اپنی ذات کی ہم سائیگی سے ڈرتا ہوں مرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو میں چپ ہوں اپنی شکست صدا کی وحشت پر مجھے نہ بولنا پڑ جائے مت ...

مزید پڑھیے

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے لوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوا رات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے اپنے دکھ میں ڈوب کر وسعت ملی کیسی ہمیں ہیں زمیں سے آسماں تک ہم ہی ہم پھیلے ہوئے آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیا ایک ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا مگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کر وہ پھول جو کہ تری دسترس سے باہر تھا وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گی ملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا ہر ایک انگ لبالب بھرا ہو جیسے جام تمہارا جسم تھا یا مے ...

مزید پڑھیے

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا ہم نے تنہائی کی چادر تان لی اور سو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4822 سے 6203