ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں
ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں فزوں ہو اور بھی دل میں تری طلب کا فسوں تمہارے جسم کی جنت تو مل گئی ہے مگر میں اپنی روح کی دوزخ کا کیا علاج کروں ہنسا ہوں آج تو مجبور تھا کہ تیرے حضور مجھے یہ ڈر تھا اگر چپ رہا تو رو نہ پڑوں تمام عمر نہ بھٹکے کہیں تو میری طرح ہوں کشمکش میں جو ...