قومی زبان

دل کے صفحوں میں جال لفظوں کا

دل کے صفحوں میں جال لفظوں کا جان پر ہے وبال لفظوں کا کیسے محفوظ ہوں اصول حروف بڑھ رہا ہے ضلال لفظوں کا الجھے رہتے ہیں سب عبارت میں ہے عجب یہ کمال لفظوں کا حرف تو حرف کٹ گئے نقطے اللہ اللہ جلال لفظوں کا اب قیامت زباں پہ آئے گی ہو رہا ہے قتال لفظوں کا ہے کتابوں میں دیمکوں کا ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ ہوا جواں پتھر

ریزہ ریزہ ہوا جواں پتھر کہہ رہا ہے یہ داستاں پتھر کھل اٹھے پھول اس کے سینے میں بن گیا ایک گلستاں پتھر برف باری سے زندگی ہے وبال رو کے کہتا ہے بے زباں پتھر کر دیا پاش پاش تیشے نے کتنا بے بس ہے ناتواں پتھر یوں ہے طاری سکوت ہستی پر جیسے ہو نظم کل جہاں پتھر ٹھوکروں سے ہے لالہ زار ...

مزید پڑھیے

بہار وقت کا ہر اک چلن شکستہ ہے

بہار وقت کا ہر اک چلن شکستہ ہے یہی سبب ہے چمن کا بدن شکستہ ہے تمہاری روح کا آکاش نیلگوں ہے مگر اب آفتاب بدن کی کرن شکستہ ہے یقیں کا پردۂ مبہم پڑا ہی رہنے دو گمان و وہم کی یہ انجمن شکستہ ہے ہوا کے پیر میں زنجیر ڈال دو بڑھ کر کہ عندلیب کا شہر وطن شکستہ ہے فضائے دہر نے اوڑھی ہے ...

مزید پڑھیے

روز چھپتی ہے یہ خبر تازہ

روز چھپتی ہے یہ خبر تازہ جل گئے بے گھروں کے گھر تازہ یوں مسلط درندگی ہے یہاں خون پی کر ہوا بشر تازہ تیرہ و تار لیلئ شب سے پھوٹتی ہے نئی سحر تازہ اشک بہتے ہیں چشم غربت سے ہاتھ میں ظلم کے ہے زر تازہ درد میں بھیگتا رہا ساحل موج کرتی رہی سفر تازہ کیسے پرواز فکر میں ہو جمود ہیں ...

مزید پڑھیے

اڑا غبار ہواؤں کی انجمن میں ہے

اڑا غبار ہواؤں کی انجمن میں ہے دھواں دھواں سا فضاؤں کی انجمن میں ہے نگاہ منظر دل کش میں چھا گئی سرخی مئے خمار صداؤں کی انجمن میں ہے لباس پوش کی خواہش میں لگ گیا ہے زنگ شکستہ داغ قباؤں کی انجمن میں ہے تم اس سے دور رہو نیند اڑ نہ جائے کہیں تھکن خمیدہ رداؤں کی انجمن میں ہے نظام ...

مزید پڑھیے

کس قدر ہے تو بے وفا سورج

کس قدر ہے تو بے وفا سورج شام ہوتے ہی بجھ گیا سورج سخت حدت میں گھر گیا عالم دے گیا دھوپ کو ہوا سورج خود کرن مانگتی ہے تجھ سے پناہ اوڑھ لے ابر کی ردا سورج اب تو بربادیاں ہیں سر پہ ترے وقت اپنا نہ تو گنوا سورج بار غم ڈال کر زمانے پر خوب لیتا رہا مزا سورج جان دے کر بھی راہ سے ...

مزید پڑھیے

رنگیں ادائے دہر کی گردن مروڑ دو

رنگیں ادائے دہر کی گردن مروڑ دو ناسور زندگی ہے تو زخموں کو پھوڑ دو افسردہ راہگیر کا ہے یہ سکوں رسا پیپل کی سمت سے ذرا تیشے کو موڑ دو ہے ناز سنگ کو کہ وہی اک ہے وجہ زخم شیشے کو آج اس کے مقابل میں چھوڑ دو یادوں کی شب یہ کہتی ہے انوار صبح سے زندہ نقوش ہوں گے تسلسل کو توڑ دو گر چاہو ...

مزید پڑھیے

لگتا ہے بحر شب بڑا پر آب دیکھنا

لگتا ہے بحر شب بڑا پر آب دیکھنا تم کو ڈبو نہ دے کہیں یہ خواب دیکھنا سرسبز کر لو کھیتیاں احساس کی ذرا ہے پر فروغ فکر کا مہتاب دیکھنا غم کا لبادہ اوڑھ کے آؤ نہ تم ادھر ہر برگ گل چمن کا ہے شاداب دیکھنا یادوں کے سبز پودے اگانے دو مجھ کو تم کشت امید کے ہیں یہ اسباب دیکھنا رکھنا قدم ...

مزید پڑھیے

ستم دوست فکر عداوت کہاں تک

ستم دوست فکر عداوت کہاں تک کہاں تک وفا سے بغاوت کہاں تک خلاف سلوک محبت کے خوگر خلاف سلوک محبت کہاں تک مسلسل ستم کی حکومت کے بانی مسلسل ستم کی حکومت کہاں تک اٹھو درد کی جستجو کر کے دیکھیں تلاش سکون طبیعت کہاں تک کبھی حکم پیر مغاں بھی بجا لا فقط اتباع شریعت کہاں تک کبھی کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں

یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں وہی جلوہ نما ہے میں نہیں ہوں زمانہ پہلے مجھ کو ڈھونڈتا ہے مگر تیرا پتا ہے میں نہیں ہوں ترے ہوتے مری ہستی کا کیا ذکر یہی کہنا بجا ہے میں نہیں ہوں صدائے نحن اقرب کہہ رہی ہے کہ تو مجھ سے جدا ہے میں نہیں ہوں وہ خود تشریف فرمائے جہاں ہیں تمہیں دھوکا ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4824 سے 6203