قومی زبان

ہجر تھا یا وصال کس کا تھا

ہجر تھا یا وصال کس کا تھا خواب تھا یا خیال کس کا تھا سامنے وہ ہمارے بیٹھے تھے دل میں ان کے خیال کس کا تھا غیر سے ہم نے مات کھائی تو اس میں کہیے کمال کس کا تھا ہم گرے ہیں اگر بلندی سے در حقیقت زوال کس کا تھا بچ کے نکلے جو لا تعلق تھے بچ نکلنا محال کس کا تھا ریگ ساحل پہ نقش باقی ...

مزید پڑھیے

بھکشو سے خواہشات کا بن مانگتی رہی

بھکشو سے خواہشات کا بن مانگتی رہی کشکول تن میں عمر تپن مانگتی رہی سرگوشیاں سنی تھیں در و بام نے یہاں خالی تھی چارپائی بدن مانگتی رہی وہ لاش اپنی چھوڑ کے بھاگا نہ جانے کیوں اس کی برہنہ لاش کفن مانگتی رہی لے کر چراغ رات کو پھرتی تھی خامشی گنجینۂ حروف سخن مانگتی رہی دیکھا جو ...

مزید پڑھیے

اس نے ہمارے ہاتھ میں اک ہاتھ کیا دیا

اس نے ہمارے ہاتھ میں اک ہاتھ کیا دیا کچھ دیر تو ہتھیلی پہ جلتا رہا دیا میں اس کے انتظار میں کھوئی کچھ اس طرح آنکھیں ہوئیں چراغ تو گھر تھا دیا دیا آنگن میں جیسے ایک چراغاں سا ہو گیا ایسا کہاں سے لائی تھی شب کو ہوا دیا دل کی تمام رونقیں اس کے ہی دم سے تھیں ڈوبا جو چاند ہم نے دیا ہی ...

مزید پڑھیے

متاع فکر و نظر رہا ہوں

متاع فکر و نظر رہا ہوں مثال خوشبو بکھر رہا ہوں میں زندگانی کے معرکے میں ہمیشہ زیر و زبر رہا ہوں شفق ہوں سورج ہوں روشنی ہوں صلیب غم پر ابھر رہا ہوں سجاؤ رستے بچھاؤ کانٹے کہ پا برہنہ گزر رہا ہوں نہ زندگی ہے نہ موت ہے یہ نہ جی رہا ہوں نہ مر رہا ہوں جو میرے اندر چھپا ہوا ہے اس آدمی ...

مزید پڑھیے

یہ کس مقام پہ پہنچا ہے کاروان وفا (ردیف .. ن)

یہ کس مقام پہ پہنچا ہے کاروان وفا ہے ایک زہر سا پھیلا ہوا فضاؤں میں نشان راہ کی رکھتے تو ہیں خبر لیکن زباں پہ تالے ہیں اور بیڑیاں ہیں پاؤں میں پھرے ہیں مدتوں انسان کی تلاش میں ہم وہ شہر میں نظر آیہ ہمیں نہ گاؤں میں سر نیاز بھی اپنا کبھی نہ خم ہوگا جھلک غرور کی ہے آپ کی اداؤں ...

مزید پڑھیے

سحاب فصل گل ہے برگ آوارہ نہیں ہے وہ

سحاب فصل گل ہے برگ آوارہ نہیں ہے وہ چلو مانا کسی کی آنکھ کا تارا نہیں ہے وہ چراغ رہ گزر ہے راستی ہے اس کی فطرت میں خلاؤں میں بھٹکنے والا سیارہ نہیں ہے وہ دکانیں مت سجاؤ قیمتی جذبوں کو مت بیچو غزل کا پھول ہے کاغذ کا پشتارہ نہیں ہے وہ ہم اپنی پیاس لے کر غم کے صحرا میں بھٹکتے ...

مزید پڑھیے

دھواں دھواں ہے غم گردش سفر سے چراغ

دھواں دھواں ہے غم گردش سفر سے چراغ عجیب سہمے ہوئے ہیں ہوا کے ڈر سے چراغ عجب طلسم کدہ ہے یہ جبر فطرت کا کہ روشنی میں رہے روشنی کو ترسے چراغ یہ خامشی کا بیاباں یہ شب کا کوہ سکوت یہ خواب خواب سا منظر یہ بے خبر ہے چراغ یہ وقت ایسا سمندر کہ جس کے دامن میں صدف صدف سی ہیں راتیں گہر گہر ...

مزید پڑھیے

زہر غم بے مزا نہیں ہوتا

زہر غم بے مزا نہیں ہوتا پھر بھی کیوں حوصلہ نہیں ہوتا دیکھ لیتا ہے مجھ میں عکس اپنا اور وہ خود آئنہ نہیں ہوتا سارے رشتے چراغ جلنے تک پھر کوئی آشنا نہیں ہوتا مصلحت بن گئی ہے مہر سکوت اب کوئی لب کشا نہیں ہوتا لب نہ کھولو کہ لوگ کہتے ہیں اس زمانے میں کیا نہیں ہوتا کیا ہنسے کوئی ...

مزید پڑھیے

سورج سر کے اوپر ہے

سورج سر کے اوپر ہے قدموں میں اپنا سر ہے آنکھیں نم دامن تر ہے دل کی پیاس سمندر ہے ہنگامہ سب اندر ہے منظر پھر بھی منظر ہے چیختے دریاؤں کا جنوں اپنی حد سے باہر ہے فطرت کا ہے سحر کہ دل آئینہ ہے پتھر ہے ہم بھی ایک پرندے ہیں برگ شجر اپنا گھر ہے عزت شہرت رسوائی جو بھی ہے جرأت بھر ...

مزید پڑھیے

حاصل زیست ضیائے خط تقدیر ہو تم

حاصل زیست ضیائے خط تقدیر ہو تم بزم احساس میں بکھری ہوئی تنویر ہو تم کیا ہوا لب پہ تبسم نہیں دلگیر ہو تم کس مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہو تم اف یہ قامت یہ قد آرائی یہ زیبائش رنگ نقش مانی ہو کہ بہزاد کی تصویر ہو تم اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے تمہارا پیکر پھر بھی میرے لئے ناقابل تسخیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4814 سے 6203