قومی زبان

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا عشق بس خواب ہے اس خواب کے جادو پہ نہ جا اب پلٹ کر نہیں شہروں کو میں جانے والی مرے جنگل تو پریشانی و ہا ہو پہ نہ جا میں ترا رقص ہوں اس رقص کو پورا کر لے تھک کے یوں ٹوٹ کے گرتے ہوئے گھنگھرو پہ نہ جا گرمیٔ رقص کے تھمتے ہی تھمیں گے ہم سب حصۂ رقص ...

مزید پڑھیے

ماں

تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماں جنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماں اے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہے اے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماں خود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہے نہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماں وہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میں تھی پہلے صرف ...

مزید پڑھیے

میں اور ہی کوئی حادثہ ہوں

میں اب نیا کوئی ہندسہ ہوں میں اور کوئی ہندسہ ہوں تمہارے پہلو میں کل سے اب تک جو اک بہ صورت صفر صفر تھی وہ میں نہیں تھی جو تجھ میں تیرے سفر کی دھن تھی جو خود مسافر نہ ہو کے بس تیری رہ گزر تھی وہ میں نہیں تھی وہ میں نہیں ہوں جو اپنے سینے کی آگ دے کر ترے سروں کا سہاگ بھر تھی جو تیری دنیا ...

مزید پڑھیے

میری پہلی نظم

سدا کی مانند اس برس بھی تمام کوؤں کے جھنڈ کوئل مکٹ پہ قابض نشے میں پاگل پھدک رہے ہیں فتح پہ اپنی اچھل رہے ہیں نراش کوئل کہ جس کے سینے میں ہوک بن کر اداس کوئل کہ جس کی شہ رگ پہ کوک بن کر ہزار نغمے دھڑک رہے ہیں وہ آشیانے میں بن کے گونگی پروں میں ننھی سریلی دل کش دھنیں سمیٹے سپاٹ نیلے ...

مزید پڑھیے

عرفاں گزیدگی

میں نے اپنے اندر اندر جتنا جو کچھ بن رکھا تھا میں نے اپنے آپ سے اپنے بارے میں جو کچھ بھی سن رکھا تھا میں نے اپنے آپ کو جتنا جیسا فرض کیا تھا میں اس سے بھی اور سوا تھی مٹی تھی میں میں پانی تھی آگ بھی تھی جتنی میں ہوا تھی لیکن اپنی سب جہتوں سے متعارف ہو جانا خود کو کتنا مہنگا پڑ سکتا ...

مزید پڑھیے

شرعی سرکس کی گیدڑ

وہی سب تھا وہی غم تھا وہی رب تھا وہی اطوار کوکب تھے وہی دستور نخشب تھا وہی سب تھا مگر اس بار رو لینے کی آزادی بھی مجھ سے چھن گئی ایسے کہ یہ کہنا پڑا پچھلے دکھوں میں اک سکھ تو تھا کم از کم رونے کے خفیہ طریقے سوچنا مجھ کو نہ پڑتے تھے مجھے کہنا پڑا آخر کہ شاید پہلے ہی سرکس میں میں کچھ ...

مزید پڑھیے

سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہے

سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہے ٹھہرو کہ بچھڑ جانے کا پل آنے لگا ہے کہتے ہو تو لہجے کی کمر سیدھی نہ کر لوں مانا کہ مرے عجز پہ پھل آنے لگا ہے یہ کیا کہ ہر اک وقت کی بیزار سماعت ہر لفظ کی پیشانی پہ بل آنے لگا ہے لاؤ مری آواز کی دستار اٹھا کر کم ظرف کوئی حد سے نکل آنے لگا ہے لو ...

مزید پڑھیے

جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں

جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں بنا بنایا تعلق بگاڑ لیتا ہوں میں نا سمجھ تو نہیں رنجشوں سے لڑتا پھروں میں رخ بدل کے محبت کی آڑ لیتا ہوں جو گرد ذہن پہ گرتی ہے بد گمانی کی میں گاہے گاہے اسے خود ہی جھاڑ لیتا ہوں میں راحتوں سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا میں سوچ سوچ کے خوشیاں اجاڑ ...

مزید پڑھیے

کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا

کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا آخر کوڑے‌ دان میں رکھا جائے گا آنکھوں کی اس بار رہائی ممکن ہے خوابوں کو زندان میں رکھا جائے گا سب کو دل کے کمرے تک کب لائیں گے کچھ لوگوں کو لان میں رکھا جائے گا باتوں سے جب پیٹ کا کمرہ بھر جائے تو پھر ان کو کان میں رکھا جائے گا جس کو چاہے ہونٹ ...

مزید پڑھیے

کسی خیال کی صورت میں اب گماں سے نکل

کسی خیال کی صورت میں اب گماں سے نکل سخن کا تیر ہے تو ہونٹ کی کماں سے نکل کبھی تو مجھ کو مرے عکس تک رسائی دے اے آئنے تو کسی روز درمیاں سے نکل چھپے ہوئے کوئی منظر مری نگاہ میں آ اے کوئی ان کہے مصرعے مری زباں سے نکل ترے سوا بھی بہت لوگ منتظر ہیں مرے سو اپنی چوٹ لگا اور داستاں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4724 سے 6203