گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کا
گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کا بیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کا چند کتابیں تھوڑے سپنے اک کمرے میں رہتے ہیں میں بھی یہاں گنجائش بھر ہوں کس کو خیال آرائش کا ٹھہر ٹھہر کر کوند رہی تھی بجلی باہر جنگل میں ٹرین رکی تو سرپٹ ہو گیا گھوڑا وقت کی تازش کا ٹیس پرانے ...