قومی زبان

جو ہے مکان وہی لا مکان نکلے گا

جو ہے مکان وہی لا مکان نکلے گا زمیں تلے بھی کوئی آسمان نکلے گا اکیلا دھوپ کے لشکر میں گھر گیا پاگل جو سوچتا تھا کوئی سائبان نکلے گا یہ جن جو کام کا دفتر کے آ گیا مجھ پر بدن کو سونپ کے میری تکان نکلے گا کوئی تو ہے جو سدا ہے مرے تعاقب میں عدو نہیں تو کوئی مہربان نکلے گا جو جانتا ...

مزید پڑھیے

لکھی جب آسمان نے تقدیر خاک کی

لکھی جب آسمان نے تقدیر خاک کی مجھ کو تمام سونپ دی جاگیر خاک کی بھاتے نہیں ہیں آنکھ کو میری یہ تاج و تخت جاتی نہیں وجود سے تاثیر خاک کی پر کھول تو دئے مرے صیاد نے مگر پاؤں میں ڈال دی مرے زنجیر خاک کی آنا ہے اس کی قید میں ہر اک وجود نے لگنی ہے ہر وجود پہ تعزیر خاک کی لو خاکساری سے ...

مزید پڑھیے

اپنی دھن میں ہی جو چپ چاپ گزر جاتا ہوں

اپنی دھن میں ہی جو چپ چاپ گزر جاتا ہوں تم سمجھتے ہو بڑے شوق سے گھر جاتا ہوں لے کے چل پڑتا ہے مجھ کو جو خیالات کا رتھ جب ترے شہر میں پہنچے میں اتر جاتا ہوں اپنے ہی درد کی انگلی سے لگا رہنے دے میں غم دہر کی اس بھیڑ سے ڈر جاتا ہوں کوئی کس طرح مرے جسم میں آ جاتا ہے میں بدن چھوڑ کے اپنا ...

مزید پڑھیے

جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے

جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے باب لکھے نہیں عنوان تو سارے لکھے منظر غم تھا شفق رنگ کہاں عکس اترا خون کا رنگ لکھا شام کے پیارے لکھے نذر طوفان ہوئے سارے سفینوں کے چراغ وہ اندھیرے جو نگاہوں نے سہارے لکھے پیکر و رضا واقف رمز ہستی دست لمحات نے یوں نام ہمارے لکھے آگہی نے ...

مزید پڑھیے

فضا کا رنگ نکھرتا دکھائی دیتا ہے

فضا کا رنگ نکھرتا دکھائی دیتا ہے ہے شب تمام کہ سپنا دکھائی دیتا ہے لہو کا رنگ ہے مٹ کر بھی رنگ لائے گا افق کا رنگ سنہرا دکھائی دیتا ہے وہ جس نے دھوپ کے میلے کو چھت مہیا کی سڑک پہ اس کا بسیرا دکھائی دیتا ہے میں کون ہوں کہ ہے سب کانچ کا وجود مرا مرا لباس بھی میلا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا

پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا آنے والی چھاؤں کی خوش فہمیاں بھی دے گیا سخت بیجوں سے سنہری بالیاں بھی بھر گئیں گرم جھونکا موسموں کی سختیاں بھی دے گیا بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رخصت ہوئی شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا احتساب اس کا عمل تھا اس سے وہ فارغ ہوا وقت سڑکوں ...

مزید پڑھیے

غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے

غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے دیار سنگ میں شیشے کا گھر سمیٹا ہے سمندروں میں بھی سورج نے بو دیئے ہیں سراب گئے تھے سیپ اٹھانے بھنور سمیٹا ہے صعوبتوں کی کوئی حد نہ آخری دیکھی ہر ایک راہ میں زاد سفر سمیٹا ہے محبتوں نے دیا ہے صداقتوں کا شعور بکھر گیا ہے جب اک بار گھر سمیٹا ہے ہوا ...

مزید پڑھیے

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا چھن چھن کے بہے گا دن بادل کی رداؤں سے سورج کی شعاعوں کو نایاب نہیں ...

مزید پڑھیے

ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں

ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں کہ شاخ وصل پہ تازہ گلاب سے کچھ ہیں یہ پل کا قصہ ہے صدیوں پہ جو محیط رہا بر آب ساعت گزراں حباب سے کچھ ہیں ہجوم ہم کو سر آنکھوں پہ کیوں بٹھائے رہا دل و نظر پہ ہمارے عذاب سے کچھ ہیں لہو رلاتے ہیں اور پھر بھی یاد آتے ہیں محبتوں کے پرانے نصاب سے کچھ ...

مزید پڑھیے

مسئلے زیر نظر کتنے تھے

مسئلے زیر نظر کتنے تھے اہل دل اہل ہنر کتنے تھے حشر آئے تو یہی فیصلہ ہو کتنے انساں تھے بشر کتنے تھے کاسۂ چشم میں امید لئے جو بھی تھے خاک بسر کتنے تھے ساری بستی میں مکاں تھے بے حد جو کھلے رہتے تھے در کتنے تھے وہ جو آسائشوں میں تلتے تھے سنگ مرمر کے وہ گھر کتنے تھے تجھ کو پائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4725 سے 6203