آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے
آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے ہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہے کچھ ہاتھ بجز کلوخ آنے کا نہیں کم بخت فضول گرد سر پھرتا ہے
آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے ہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہے کچھ ہاتھ بجز کلوخ آنے کا نہیں کم بخت فضول گرد سر پھرتا ہے
جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگا اوج اس کو فروتنی سے حاصل ہوگا دیتا ہے تواضع کا سبق عجز ہلال ناقص اسی مدرسہ میں کامل ہوگا
گرمی امسال کس قیامت کی پڑی ایک ایک گھڑی ہوئی قیامت کی گھڑی امڈا یہ پسینہ یہ پڑی دھوپ کڑی بیساکھ میں لگ رہی ہے ساون کی جھڑی
افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہے اسٹام کے جال میں پھنسا رکھا ہے قانون نے اک لوٹ مچا رکھی ہے اس واسطے اس کا نام لا رکھا ہے
کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلا مطلب کہیں اس طرح نکلتا ہے بھلا جب داہنے ہاتھ سے گرہ کھل نہ سکی کب بائیں قدم سے کام چلتا ہے بھلا
سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھی مشرق کی طرف برق تجلی دیکھی مغرب میں وہ روشنی گئی بن کے ہلال دیکھا نہ ادھر کسی کی دیکھا دیکھی
پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میں جوں شمع دم صبح گزرتا ہوں میں جنت کی ہوا بھری ہے سینے میں بیاںؔ ٹھنڈی ٹھنڈی جو سانس بھرتا ہوں میں
بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہے نیرنگ عجب عالم اسباب میں ہے کچھ خواب میں کچھ قید میں کچھ صحرا میں اک عمر سے کیا تفرقہ احباب میں ہے
ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوں لایا تو گلا زباں پر آیا پھر کیوں گر جانتے تھے خانہ خرابی کے سبب مہماں کو میزباں بنایا پھر کیوں
تمیز کافر و مومن خرد کی بے بصری قیود دیر و حرم ہیں دلیل کم نظری وہ عشق کیا کہ ہو نا آشنائے جذب و جنوں وہ زخم کیا کہ ہو احسان مند چارہ گری مجھے خلوص نے لوٹا تو کچھ مروت نے ادا شناس وفا کی نہ پوچھ حیلہ گری بغیر سوز تمنا فسون و افسانہ فغان نیم شبی ہو کہ نالۂ سحری یہ مجھ کو کون سی ...