قومی زبان

زباں مجبور ہے لب پر فغاں ہے

زباں مجبور ہے لب پر فغاں ہے سراپا درد میری داستاں ہے نگاہ یار بھی ہے بد گماں سی غرور حسن بھی دامن کشاں ہے فراق دوست کا کیا ذکر آخر وصال یار بھی دل پر گراں ہے یہاں پر بات کرنا ہے قیامت وہاں فریاد کی جرأت کہاں ہے مرا غم ہے مرا سرمایۂ زیست مرا ہر اشک میرا ترجماں ہے خمار آلود ...

مزید پڑھیے

وہ ستم پرور بہ چشم اشک بار آ ہی گیا

وہ ستم پرور بہ چشم اشک بار آ ہی گیا چاک دامانی پہ میری اس کو پیار آ ہی گیا مٹتے مٹتے مٹ گئی جان وفا کی آرزو آتے آتے بے قراری کو قرار آ ہی گیا چپکے چپکے مجھ پہ میری خامشی ہنستی رہی روتے روتے جذب دل پر اختیار آ ہی گیا کوئی وعدہ جس کا معنی آشنا ہوتا نہیں پھر اسی وعدہ شکن پر اعتبار آ ...

مزید پڑھیے

عشق ہے بندۂ آزاد کا مقصود حیات (ردیف .. د)

عشق ہے بندۂ آزاد کا مقصود حیات عقل بت گر نے تراشے ہیں ہزاروں معبود وسعتیں اور عطا عرصۂ آفاق کو کر تنگ ہے میرے جنوں پہ یہ جہان محدود فوقیت دیتے ہیں مذہب پہ جو قومیت کو ان کا ادراک معطل ہے بصیرت محدود اب کہاں حسن خود آرا میں خم زلف ایاز اب کہاں عشق کے مسلک میں طریق محمود نہ وہ ...

مزید پڑھیے

سامان اہتمام چراغاں ابھی نہیں

سامان اہتمام چراغاں ابھی نہیں محفوظ بجلیوں سے گلستاں ابھی نہیں میرا نصیب ہیں غم دوراں کی تلخیاں میرے نصیب میں غم جاناں ابھی نہیں کہتے ہیں لب کہ چھیڑ فسانے بہار کے کہتی ہے آنکھ ذکر بہاراں ابھی نہیں اب تک خزاں رسیدہ ہے صبح بہار نو آسودۂ بہار گلستاں ابھی نہیں ہر لب پہ ہے نظارۂ ...

مزید پڑھیے

کرن میں پھر سے بدلنے لگا خیال اس کا

کرن میں پھر سے بدلنے لگا خیال اس کا اتر رہا ہے نئے چاند پر جمال اس کا گیا ہے شاخ سے وہ اس لیے کہ شاخ رہے ہوا تو بیج کی صورت ہوا زوال اس کا جیوں گا میں بھی ہمیشہ کہ جاوداں ہے وہ میں جی رہا ہوں کہ یہ سال بھی ہے سال اس کا وہ لے گیا ہے مری آنکھ اپنی بستی میں کہ میرے ساتھ رہے رابطہ بحال ...

مزید پڑھیے

سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا

سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا کبھی گھر تھا بیاباں میں کبھی گھر میں بیاباں تھا ترے کشتے کو محشر خواب آسائش کا ساماں تھا کہ صور افسانہ گو تھا زلزلہ گہوارۂ جنباں تھا جسے سب نوح کے فرزند کہتے ہیں کہ طوفاں تھا کسی جاندادۂ خاموش کا اندوہ پنہاں تھا بلا سے چور کر دو چور کر دو ...

مزید پڑھیے

صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں

صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں آئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوں گوہر نابسودہ کو زلف میں مت دکھا کہ یوں میری کمند شوق میں رات کے وقت آ کہ یوں کیوں کہ جھکے نسیم سے سوچے تھی نرگس چمن دیکھ کے چشم ناز کو آنے لگی حیا کہ یوں چاہتے تھے شہود میں غیب کا رنگ دیکھنا میری ز ...

مزید پڑھیے

خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص

خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص ہر دو عالم کو ترا رکھتا ہے بے آرام رقص دیکھیے پیری کا حال اور دیکھیے ریش سفید شیخ صاحب نا مناسب ہے یہ بے ہنگام رقص ابلق چشم بتاں کی شوخیاں چکرا گئیں آسماں پر مہر و مہ کرتے ہیں صبح و شام رقص ہو حقیقی یا مجازی عشق کی حالت نہ پوچھ خانقہ میں مے ہے ...

مزید پڑھیے

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے ہماری آرزو ٹپکی لہو سے یہ ہے کس کا سویم پوچھا عدو سے کہ دم ہے ناک میں پھولوں کی بو سے وہ بچہ پرورش کرتی ہے الفت جو پیکاں پوروے کی طرح چوسے یہ ٹوٹے گی ہوائے گل سے واعظ مری توبہ کو کیا نسبت وضو سے اسے کہتے ہیں قمری طوق الفت چھری لپٹی ہوئی ہے یاں گلو سے یہ ...

مزید پڑھیے

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا میں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گا وہ ہٹے آنکھ کے آگے سے تو بس صورت عکس میں بھی اس آئنہ خانے سے نکل جاؤں گا مہر تم سوختہ میں شیشۂ آتش ہے رقیب اس پہ ڈالو گے تجلی تو میں جل جاؤں گا مجھ سے کہتا ہے مرا دود جگر صورت شمع دل میں روکو گے تو میں سر سے نکل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4638 سے 6203