قومی زبان

دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں اس حسن اور شباب میں اب کیا ہے کچھ نہیں میرے لیے تو جیسے وہ کاغذ کا پھول تھا اس خوش نما گلاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں اب ہیں کتاب زیست کے اوراق منتشر اس کے ہر ایک باب میں اب کیا ہے کچھ نہیں مجھ کو دکھا رہا تھا ابھی تک وہ سبز باغ ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

انسانیت نہ جس میں ہو وہ آدمی نہیں

انسانیت نہ جس میں ہو وہ آدمی نہیں جس میں حضور قلب نہ ہو بندگی نہیں جس میں جنون شوق نہ ہو عاشقی نہیں دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں رہتا ہے میرے درپئے آزار پھر بھی وہ اس سے اگرچہ میری کوئی دشمنی نہیں راتوں کی نیند دن کا سکوں ہو گیا حرام پوچھا جو کب ملو گے تو بولا کبھی ...

مزید پڑھیے

چل رہے ہیں وہ ایسی شان سے آج

چل رہے ہیں وہ ایسی شان سے آج جیسے آئے ہوں آسمان سے آج آستیں میں جو ان کی تھا کل تک تیر نکلا ہے وہ کمان سے آج شمع کے ارد گرد پروانے ہاتھ دھوئیں نہ اپنی جان سے آج اپنا سب کچھ لٹا کے ہوش آیا شیخ جی مل رہے ہیں خان سے آج گل کھلائیں گے کیا ابھی کچھ اور لگ رہے ہیں وہ مہربان سے آج کر رہے ...

مزید پڑھیے

اس کی دزدیدہ نگاہی دیکھنا اچھا لگا

اس کی دزدیدہ نگاہی دیکھنا اچھا لگا بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا جس کی تصویر تصور ذہن میں محفوظ ہے جادۂ الفت میں اس کو ڈھونڈھنا اچھا لگا گھولنا کانوں میں رس شیرینئ گفتار سے روح پرور اس کا ہنسنا بولنا اچھا لگا مرتعش ہوتا ہے جس کو دیکھ کر تار نفس اس کا زلف خم بہ خم کا ...

مزید پڑھیے

مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل

مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل ہیں ساتھ ساتھ موج حوادث سنبھل کے چل برگ خزاں رسیدہ سے آتی تھی یہ صدا اس باغ سبز پر کف افسوس مل کے چل درپئے نہنگ مرگ ہے درپیش چاہ گور مستی نہ کر حواس میں آ مت مچل کے چل سوتے ہیں لوگ تار ہیں کوچے گزر ہے تنگ تاریک شب ہے ساتھ چراغ عمل کے چل اے تن پرست ...

مزید پڑھیے

کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا

کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا میں ڈرتا ہوں کہیں پردہ نہ پھٹ جائے حقیقت کا کہاں لے جائے گا یا رب سمند تند وحشت کا کہ پیچھے رہ گیا کوسوں دوراہا نار و جنت کا غبار رنگ پراں ہے پھریرا تیری رایت کا شکست قلب عاشق غلغلہ ہے تیری نصرت کا کیا ہے قصد کس کے کنگر ایوان رفعت کا کہ ...

مزید پڑھیے

وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے

وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے کہ حوت آسماں تہہ میں پڑی ہے مرے ارماں بتوں کی سرد مہری زراعت برف کے پالے پڑی ہے چمن میں سرو کا بہروپ بھر کر قیامت منتظر کس کی کھڑی ہے دہان تنگ غنچہ پتیاں لب ہنسی ہے پھول فقرہ پنکھڑی ہے لگا دی آگ کس شعلہ نے بلبل ہر اک پھولوں کی ٹہنی پھلجھڑی ہے نگاہ ...

مزید پڑھیے

فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیا

فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیا مجھے مجھی پہ ستم گر نے اشک بار کیا ہر ایک ذرہ نے ایجاد صد بہار کیا یہ میری خاک کو کس گل نے رہ گزار کیا بلا ہے شوق شہادت نہ اس نے وار کیا جگر کو آپ ہی بڑھ کر سناں کے پار کیا میں خوش ہوں وعدۂ فردا پہ کون شخص ہوں میں وہ شوخ اور یہ عمر اس پہ اعتبار ...

مزید پڑھیے

چراغ حسن ہے روشن کسی کا

چراغ حسن ہے روشن کسی کا ہمارا خون ہے روغن کسی کا ابھی نادان ہیں محشر کے فتنے رہیں تھامے ہوئے دامن کسی کا دل آیا ہے قیامت ہے مرا دل اٹھے تعظیم دے جوبن کسی کا یہ محشر اور یہ محشر کے فتنے کسی کی شوخیاں بچپن کسی کا ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا کیا تلوار ...

مزید پڑھیے

آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی

آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی وہ نہ آئے تو قیامت ہوگی حشر میں کون سنے گا فریاد سد رہ حد سماعت ہوگی ننگ نظارہ ہے ہم چشمۂ عام ہم نہ دیکھیں گے جو رویت ہوگی یک طرف ہو کے رہیں گے یک رنگ ہم کو اعراف سے نفرت ہوگی شکوہ ہے دین وفا میں احداث مجھ سے کاہے کو یہ بدعت ہوگی ہیں قیامت میں تامل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4636 سے 6203