دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں اس حسن اور شباب میں اب کیا ہے کچھ نہیں میرے لیے تو جیسے وہ کاغذ کا پھول تھا اس خوش نما گلاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں اب ہیں کتاب زیست کے اوراق منتشر اس کے ہر ایک باب میں اب کیا ہے کچھ نہیں مجھ کو دکھا رہا تھا ابھی تک وہ سبز باغ ہے زندگی ...