قومی زبان

جب دل ٹوٹا دیوانے کا

جب دل ٹوٹا دیوانے کا آغاز ہوا افسانے کا تب اور شمع کی لو بھڑکی جب جسم جلا پروانے کا جب اپنا ہی اپنا ہی اپنا نہ رہا تب شکوہ کیا بیگانے کا جب اپنے ہاتھوں زہر پیا کیا جرم ہے تب پیمانے کا جب ہر دروازہ بند ہوا بس وا ہے در میخانے کا اب درد کے مارے کیسے جئیں اور رستہ نہیں مر جانے ...

مزید پڑھیے

ڈرتا ہوں کہیں اے دوست مرے یہ پیار مرا بدنام نہ ہو

ڈرتا ہوں کہیں اے دوست مرے یہ پیار مرا بدنام نہ ہو جس طرح سے ٹوٹے لاکھوں دل اپنا بھی وہی انجام نہ ہو یہ ظالم دنیا ہے ساتھی کب دو دل ملنے دیتی ہے ایسی ہی تلخ جدائی کی اب اپنی کوئی شام نہ ہو ہیں بیچ میں کتنی دیواریں مذہب کی سماجوں رسموں کی اس قید میں ہم بھی دم توڑیں قسمت میں یہی ...

مزید پڑھیے

میں جب توہمات سے یکسر گزر گیا

میں جب توہمات سے یکسر گزر گیا اپنی ہی شکل دیکھ کے کیوں آج ڈر گیا کل تک جو شور کرتے تھے خاموش ہو گئے شاید کہ شہر میں کوئی دیوانہ مر گیا بے عکس آئنہ تو کسی کام کا نہ تھا پتھراؤ کیوں ہوا کہ وہ ٹوٹا بکھر گیا راہوں نے آنکھیں موند لیں انجانے خوف سے اک حادثے کو ساتھ لئے وہ جدھر ...

مزید پڑھیے

لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوں

لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوں تیرگی سے کیا ڈرنا روشنی سے ڈرتا ہوں میں نکل پڑا گھر سے اب سفر میں جو بیتے آگے چلتے رہنا ہے واپسی سے ڈرتا ہوں یہ بھی جانور سارے وہ بھی جانور سارے جانے کیسی بستی ہے آدمی سے ڈرتا ہوں رہزن خلوص جاں رہزن مسرت ہے رہنمائی علم و آگہی سے ڈرتا ...

مزید پڑھیے

اگر جہاں میں خدا کے سوا کچھ اور نہیں

اگر جہاں میں خدا کے سوا کچھ اور نہیں تو پھر نصیب دعا کے سوا کچھ اور نہیں ہمارے پاس ہمارا ضمیر ہے لوگو تمہارے پاس انا کے سوا کچھ اور نہیں کبھی وفا تھی محبت میں اور خلوص بھی تھا حیات آج جفا کے سوا کچھ اور نہیں وہ خود ہی کہتے ہیں اور خود ہی سنتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس صدا کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

گئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملا

گئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملا مگر یہ کیا کہ ہر اک شخص بے قرار ملا بھلانا چاہا تھا اس کو مگر بھلا نہ سکے وہ ایک شخص جو رستے میں بار بار ملا حقیقتوں کو فسانوں میں جب سے الجھایا فریب و مکر و سیاست کو اعتبار ملا کسی نے کر دیا برباد اس کا غم بھی نہیں اسی بہانے زمانے کو رازدار ...

مزید پڑھیے

مے خانہ کی رونق ہے جدا شان حرم اور

مے خانہ کی رونق ہے جدا شان حرم اور مے کش کا مزاج اور ہے زاہد کا بھرم اور ناکامیٔ تکمیل تمنا ہے اک آغاز اسباب غم جاں تو ابھی ہوں گے بہم اور کچھ دشت نوردی کے تو کچھ کوہ کنی کے افسانۂ تشہیر وفا ہوں گے رقم اور پسپائی پہ آمادہ جو سرداروں کو دیکھا ہم لے کے بڑھے خون تمنا کا علم اور اک ...

مزید پڑھیے

ہمدم با خبر میری تنہائیاں

ہمدم با خبر میری تنہائیاں مونس معتبر میری رسوائیاں تنگیٔ ارض کا مجھ کو شکوہ ہے یوں آسمانوں کی دیکھی ہیں پہنائیاں مینڈکوں کی طرح اچھلے تالاب میں ناپتے کیا سمندر کی گہرائیاں وہ جو عضو بدن کی طرح ساتھ تھے یاد ہیں آج بھی ان کی پرچھائیاں دانش و عقل گمراہ کرتی رہی زیست کھوتی رہی ...

مزید پڑھیے

ہر حقیقت ہے وہی خواب پریشاں کہ جو تھا

ہر حقیقت ہے وہی خواب پریشاں کہ جو تھا جذبۂ دل ہے وہی چاک گریباں کہ جو تھا مہ جبینوں کو ملے جور کے انداز نئے دل فگاروں کو وہی دیدۂ حیراں کہ جو تھا ہاں شہیدان وفا سر پہ کفن کج ہی رہے دیکھنا آج بھی ظالم ہے پشیماں کہ جو تھا نہ مسیحا نہ ہی منصور نہ فرہاد رہا اب کہاں رونق و ہنگامۂ ...

مزید پڑھیے

تو نہ پائے گا کہیں ذوق قضا میرے باد

تو نہ پائے گا کہیں ذوق قضا میرے باد جو دم مرگ دے قاتل کو دعا میرے بعد لوگ کترا کے مرے گھر سے گزر جاتے تھے آج کیوں شہر میں ماتم ہے بپا میرے بعد تھا فرشتوں کا بھی معبود وہی ایک مگر اپنی تخلیق پہ نازاں ہے خدا میرے بعد ہم نے تنہائی سے یاری تو نبھا دی لیکن یار سے یار کبھی ہو نہ جدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4525 سے 6203