ڈرتا ہوں کہیں اے دوست مرے یہ پیار مرا بدنام نہ ہو
ڈرتا ہوں کہیں اے دوست مرے یہ پیار مرا بدنام نہ ہو
جس طرح سے ٹوٹے لاکھوں دل اپنا بھی وہی انجام نہ ہو
یہ ظالم دنیا ہے ساتھی کب دو دل ملنے دیتی ہے
ایسی ہی تلخ جدائی کی اب اپنی کوئی شام نہ ہو
ہیں بیچ میں کتنی دیواریں مذہب کی سماجوں رسموں کی
اس قید میں ہم بھی دم توڑیں قسمت میں یہی انعام نہ ہو
الفت کے ہاتھ تھمایا ہے دنیا نے زہر کا پیمانہ
کتنوں نے پیا یہ جام سم اپنے بھی لئے یہ جام نہ ہو
بدنام ہے ہر پہچان یہاں ہے جرم یہاں ہر اک رشتہ
اک روز ہمارے سر بسملؔ ایسا ہی کوئی الزام نہ ہو