قومی زبان

یہ کیوں سوچیں کہ وہ داد وفا دیتے تو کیا ہوتا

یہ کیوں سوچیں کہ وہ داد وفا دیتے تو کیا ہوتا جو رونے پر بھی پابندی لگا دیتے تو کیا ہوتا لگا رکھی ہے دل میں آگ ان کی بے نیازی نے نہ جانے جو وہ دامن سے ہوا دیتے تو کیا ہوتا تڑپنے کی اجازت ہے یہ ان کی مہربانی ہے وہ ہنس کر ٹال جاتے ہیں سزا دیتے تو کیا ہوتا فقط کچھ داغ سینے میں چھپا ...

مزید پڑھیے

دیا فریب تمنا کو ہر گھڑی میں نے

دیا فریب تمنا کو ہر گھڑی میں نے مراد من کی نہ پائی مگر کبھی میں نے امید و بیم سے دل کو نجات مل نہ سکی گزار دی ہے تذبذب میں زندگی میں نے خرد کا راگ مرے غم سے داد پا نہ سکا جنوں کو سونپ دیا ساز آگہی میں نے بلا کے مجھ کو سر بزم بے حجاب کیا ترے کرم کی حقیقت بھی دیکھ لی میں نے وصال و ...

مزید پڑھیے

دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر

دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر اب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پر دل کی کلیاں افسردہ سی ہر چہرہ مایوس مگر باغ مہکتے دیکھ رہا ہوں گھاٹوں پر شمشانوں پر پتھر دل ہیں لوگ یہاں کے یہ پتھر کیا پگھلیں گے کس نے بارش ہوتے دیکھی تپتے ریگستانوں پر جن کی ایک نظر کے ...

مزید پڑھیے

انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں

انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں وہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیں جو لوگ محبت میں گرفتار نہیں ہیں وہ لوگ حقیقت کے پرستار نہیں ہیں دنیا میں میسر ہے ابھی جنس محبت صد حیف کہ پہلے سے خریدار نہیں ہیں ٹوٹے ہیں نہ ٹوٹیں گے کبھی بوجھ سے غم کے نازک ہیں مگر ریت کی دیوار نہیں ہیں دل ...

مزید پڑھیے

لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئے

لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئے ہم انہیں لمحوں کو عمر جاوداں سمجھا کئے موت کو ہم زندگی کی ترجماں سمجھا کئے قطرۂ دریا کو بحر بیکراں سمجھا کئے گو حقیقت ہی حقیقت تھی سراپا ہم مگر زندگی کو داستاں ہی داستاں سمجھا کئے حسرت سیر گلستاں خواب بن کر رہ گئی وہ قفس نکلا جسے ہم آشیاں ...

مزید پڑھیے

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا مجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھا غم پیہم ہوئی ثابت جسے میں نے بقا سمجھا حیات جاوداں نکلی جسے میں نے قضا سمجھا غلط سمجھا زمانے میں تجھے درد آشنا سمجھا مری نظروں کا دھوکا تھا میں پتھر کو خدا سمجھا وفا کی راہ میں کھائے ہیں ...

مزید پڑھیے

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا اپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھا سب کھڑکیاں تھیں بند کوئی در کھلا نہ تھا جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستہ نہ تھا کیا جانے کس خیال سے چپ ہو کے رہ گیا ایسا نہیں کہ غم مجھے پہچانتا نہ تھا ہونٹوں کے پاس آ نہ سکا جام عمر بھر حالانکہ فاصلہ یہ ...

مزید پڑھیے

کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے

کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے دل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہے کہتی ہے روح جسم سے شاید تجھے خبر نہیں میرا مقام تو نہیں میرا مقام اور ہے سہمی ہوئی یہ خامشی ہونٹوں کی تیرے کپکپی کہتی ہے صاف نامہ بر کچھ تو پیام اور ہے شکوۂ بے رخی پہ وہ کہنے لگے کہ دیکھیے نظروں کی بات ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ نور صبح سیہ گیسوؤں میں رات

چہرے پہ نور صبح سیہ گیسوؤں میں رات اتری تھی اک پری لئے اپنے پروں میں رات دن تو شکم کی آگ بجھانے میں جائے ہے شکر خدا کہ کٹتی ہے دانشوروں میں رات تھی وجہ خواب کل یہی تسکین قلب بھی ہم کو تو اب ڈرانے لگی زلزلوں میں رات ہر صاحب کمال ہے فن کے عروج پر قبلہ نما رہی ہے سبھی حادثوں میں ...

مزید پڑھیے

باب رحمت پہ دعا گریہ کناں ہو جیسے

باب رحمت پہ دعا گریہ کناں ہو جیسے گمشدہ بیٹے کی مضطر کوئی ماں ہو جیسے اس کی ممتاز کی روداد محبت لکھ دوں ایسے کہتا ہے کوئی شاہ جہاں ہو جیسے گفتگو میں وہ حلاوت وہ عمل میں اخلاص اس کی ہستی پہ فرشتے کا گماں ہو جیسے اس کی دزدیدہ نگاہی کے ہیں سب ہی گھائل کوئی صیاد لئے تیر و کماں ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4524 سے 6203