قومی زبان

بے خبر اپنے مقدر سے رہا پہلے پہل

بے خبر اپنے مقدر سے رہا پہلے پہل جب قدم شہر زلیخا میں رکھا پہلے پہل بازگشت اس کی ہیں جتنی بھی یہ آوازیں ہیں ہر طرف گونج گئی ایک صدا پہلے پہل اپنی منزل کا وہیں ہو گیا عرفان مجھے جب ملا راہ میں اک نقش وفا پہلے پہل لوگ پہچان نہ پائے کسی دیوانے کو جانے کس طرح یہ دستور بنا پہلے ...

مزید پڑھیے

صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سے

صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سے اب رشک ہر کسی کو ہے ان کے نصیب سے پھر اس کے بعد ہم بھی جلیں طور کی طرح بس ایک بار دیکھ لیں ان کو قریب سے جب سنگ ریزہ ہمدم دیرینہ ہو گئے تو تشنگی بجھا گئے جو تھے رقیب سے بے فکر بے خبر چلا جاتا تھا اک ہجوم تھم جاؤ اک صدا تھی وہ کس کی صلیب سے

مزید پڑھیے

ساتھ پا کر بھی ڈر گیا کوئی

ساتھ پا کر بھی ڈر گیا کوئی راستے میں ٹھہر گیا کوئی کوئی کھڑکی تلک بھی آ نہ سکا کتنے زینے اتر گیا کوئی زعم شمشیر کھوکھلا نکلا خالی ہاتھوں بپھر گیا کوئی آبلہ پا بھٹکتا رہتا تھا تم سے مل کر نکھر گیا کوئی پھول بن کر کھلا تھا اے داؤدؔ دھول بن کر بکھر گیا کوئی

مزید پڑھیے

ایک تو پتھر اچھالا جا رہا ہے

ایک تو پتھر اچھالا جا رہا ہے اس پہ شیشہ بھی سنبھالا جا رہا ہے گھر اندھیروں کا کھنگالا جا رہا ہے رات میں سورج نکالا جا رہا ہے پھول تو مجبوریوں میں کھل رہے ہیں باغ میں کانٹوں کو پالا جا رہا ہے فیصلہ آیا ہے برسوں بعد وہ ہی فیصلے کو کل پہ ٹالا جا رہا ہے آپ کی تب تک ہی زندہ باد ...

مزید پڑھیے

تجھے خود سے الگ کیسے کروں میں

تجھے خود سے الگ کیسے کروں میں تجھے جب کھینچتا ہوں خود سے باہر کھنچا آتا ہوں میں بھی ساتھ تیرے عجب سا جسم میرا ہو گیا ہے ہے جس میں پاؤں میرے ہاتھ تیرے زباں اپنی اگر خاموش کر دوں تری باتیں اشارے بولتے ہیں جگر جاں دل نظر جس کو بھی دیکھو ترا ہی نام سارے بولتے ہیں ہوئی ہے جذب مجھ میں اس ...

مزید پڑھیے

میں نے اپنا حق مانگا تھا وہ ناحق ہی روٹھ گیا

میں نے اپنا حق مانگا تھا وہ ناحق ہی روٹھ گیا بس اتنی سی بات ہوئی تھی ساتھ ہمارا چھوٹ گیا وہ میرا ہے آخر اک دن مجھ کو مل ہی جائے گا میرے من کا ایک بھرم تھا کب تک رہتا ٹوٹ گیا دنیا بھر کی شان و شوکت جیوں کی تیوں ہی دھری رہی میرے بیراگی من میں جب سچ آیا تو جھوٹ گیا کیا جانے یہ آنکھ ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے

وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو میں نے سچ کہا جب کہہ دیا تو کہہ دیا اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا میں نے کہ وہ مل جائے مجھ کو میں اسے غیر نا ہو جائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا پروانہ گر تو کیا خطا ہے شمع کی رات بھر ...

مزید پڑھیے

عجب کشمکش ہے عجب ہے کشاکش یہ کیا بیچ میں ہے ہمارے تمہارے

عجب کشمکش ہے عجب ہے کشاکش یہ کیا بیچ میں ہے ہمارے تمہارے ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت کی خاطر مراسم ہیں سارے ہیں چاروں طرف ہی بہت لوگ لیکن حقیقت میں کوئی بھی اپنا نہیں ہے دکھاوا دکھاوا سبھی کچھ دکھاوا دکھاوے میں جیتے ہیں سارے کے سارے بلندی پہ جن کو بھی دیکھا یہ پایا سبھی آسرا ...

مزید پڑھیے

بے حد بے چینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں

بے حد بے چینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں پانا کھونا ہنسنا رونا کیا ہے آخر کچھ بھی نہیں اپنی اپنی قسمت سب کی اپنا اپنا حصہ ہے جسم کی خاطر لاکھوں ساماں روح کی خاطر کچھ بھی نہیں اس کی بازی اس کے مہرے اس کی چالیں اس کی جیت اس کے آگے سارے قادر ماہر شاطر کچھ بھی نہیں اس کا ہونا یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4526 سے 6203