قومی زبان

کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھے

کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھے ڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھے اپنے خلوت‌ کدۂ غم میں رہے اہل حجاب بے حجابی نے تو محشر کے زمانے دیکھے سرخیاں جن کی ہیں مرکوز نگاہ عالم تم نے وہ قصے پڑھے ہیں جو فسانے دیکھے ایک ہلکا سا بھی پرتو نظر آیا نہ ترا یوں تو ہم نے بھی کئی آئنہ ...

مزید پڑھیے

روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلے

روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلے اس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلے اشک اب تک مری آنکھوں سے نہ برسے پہلے ہونٹ شبنم کے بھی اک بوند کو ترسے پہلے جس کی تنویر میں پنہاں تھیں ہزاروں ظلمات اک سحر ایسی بھی دیکھی ہے سحر سے پہلے میری خوددار طبیعت کا تقاضا تھا یہی آشیاں پھونک دیا برق و ...

مزید پڑھیے

لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئے

لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئے منزل قریب آئی تو رستے بدل گئے ہر راہ رو سے تیرا پتہ پوچھتے ہوئے ہم راہ دیر و کعبہ سے آگے نکل گئے پھوٹی ہے جب بھی تیرے تبسم کی اک کرن گھبرا کے خود بخود ہی اندھیرے پگھل گئے رندان‌ تشنہ کام کو اب مے سے کیا غرض ساقی کی چشم مست سے جب دور چل گئے اب ...

مزید پڑھیے

وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہونا

وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہونا ہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہونا کس قدر ہے تری رحمت پہ بھروسا یا رب مجھ کو آیا نہ گناہوں پہ پشیماں ہونا اہل دل چل تو دئے ہیں در جاناں کی طرف کس کی قسمت میں ہے خاک در جاناں ہونا ان کے وعدے کی خوشی کا یہ مکمل ہے ثبوت شام سے پہلے مرے گھر میں چراغاں ...

مزید پڑھیے

زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیں

زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیں موت کے آغوش میں وہ مسکرا سکتا نہیں اس کی تہمت اپنے سر بار امانت لے لیا بوجھ وہ انساں جو اپنا بھی اٹھا سکتا نہیں ربط ہے ہر شے سے پھر بھی اس جہاں میں دوستو آدمی خود آدمی کے کام آ سکتا نہیں یہ جہاں ہے آزمائش گاہ ارباب وفا لاکھ چاہے بھی تو انساں ...

مزید پڑھیے

محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میں

محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میں گم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میں میں کشمکش دہر سے بے علم ہوں اب تک تو خود ہی بتا کون ہے ہر چیز میں شر میں دنیا مرے معیار پہ اترے گی نہ تا عمر یہ تو ہے کھلونا مری نم دیدہ نظر میں عنقا ہے زمانے سے مساوات و اخوت اوصاف بشر ڈھونڈنے نکلے ہو بشر ...

مزید پڑھیے

زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کو

زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کو اے اجل کشمکش غم سے چھڑا لے مجھ کو کچھ تو لے کام تغافل سے وفا کے پیکر یہ ترا پیار کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو واہ ری قسمت کہ کہاں منزل مقصود ملی جب مزہ دینے لگے پاؤں کے چھالے مجھ کو آخری وقت تلک ساتھ اندھیروں نے دیا راس آتے نہیں دنیا کے اجالے مجھ ...

مزید پڑھیے

ہماری جان تم ایسا کرو گی

ہماری جان تم ایسا کرو گی ہماری جان کا سودا کرو گی تبھی یہ دل تمہیں دیں گے بتاؤ ذرا سی بات پر روٹھا کرو گی چلو تکیہ تمہارے ہی سرہانے وگرنہ رات بھر جھگڑا کرو گی ہمیں بد معاش کہہ کر مار دو گی کہیں گے ہم اگر بوسہ کرو گی اجی ہم جانتے ہیں کے مری جاں کرو گی جو بہت اچھا کرو گی نگاہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی خراب ہو گئی

زندگی خراب ہو گئی اور بے حساب ہو گئی خار خار ہو گئی تھی یک بہ یک گلاب ہو گئی زلف کی گھٹا کھلی ابھی ہائے مہتاب ہو گئی دیکھتے ہی کھو گیا اسے اس قدر شراب ہو گئی دوستوں کی بات مان لی سانس بھی عذاب ہو گئی کل تلک دبی دبی رہی آج انقلاب ہو گئی شاعروں نے ٹانک دی چنر شاعری شباب ہو گئی

مزید پڑھیے

یاد کرنے سے پہلے بھلانا پڑا

یاد کرنے سے پہلے بھلانا پڑا یہ زہر تھا مگر آزمانا پڑا جان کر بھی کے ہے تیرگی بد بری جان کر بھی اسے گدگدانا پڑا راہ بر کے ذہن کو سمجھنے ہمیں راہزن کے محلے میں جانا پڑا اب ہنسی آ رہی ہے کہ کس کے لئے ہائے کس کے لئے مار کھانا پڑا آپ تو سر ٹکا کر کے چلتے بنے اور یوں ہی رہا پھر یہ شانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4517 سے 6203