قومی زبان

دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو

دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو مقدور ہو تو ذات میں اپنی سفر کرو ہنگام خیر مقدم صبح نشاط ہے پروانہ وار شام سے رقص شرر کرو زنجیر توڑنا بھی بڑا کام تھا مگر فرصت میں ہو تو زینت دیوار و در کرو مایوس کن ہے عالم امکاں ابھی تو کیا دنیائے ممکنات پہ اپنی نظر کرو جو غم بھی دے حیات خوشی سے ...

مزید پڑھیے

میں صرف وہ نہیں جو نظر آ گیا تجھے

میں صرف وہ نہیں جو نظر آ گیا تجھے مژدہ پھر اذن بار دگر آ گیا تجھے صحرا میں جان دینے کے موقعے تو اب بھی ہیں وہ کیا جنوں تھا لے کے جو گھر آ گیا تجھے پہلے کبھی تو موت کو تجھ سے گلہ نہ تھا جینے کا آج کیسے ہنر آ گیا تجھے اس دور میں یہ فخر بھی کس کو نصیب ہے چہرہ تو آئینہ میں نظر آ گیا ...

مزید پڑھیے

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں ہمیں نہ چھیڑ کہ اب تک نظر بھی رکھتے ہیں نہ گرد و پیش سے اس درجہ بے نیاز گزر جو بے خبر سے ہیں سب کی خبر بھی رکھتے ہیں کہاں گیا تری محفل میں زعم دیدہ وراں یہ حوصلہ تو یہاں کم نظر بھی رکھتے ہیں قفس کو کھول مگر اتنا سوچ لے صیاد بہت اسیر تیرے بال و پر ...

مزید پڑھیے

غزل کہیں تو وہی داستان نکلے گی

غزل کہیں تو وہی داستان نکلے گی ہر ایک شعر میں آہ و فغاں نکلے گی سفر کی مشکلیں رونے کا فائدہ کیا ہے کہ جاتے جاتے ہی میری تھکان نکلے گی جبیں کے نیچے دو کشتی میں باندھ لی ہے ندی ضرور لے گی یہ اک دن اپھان نکلے گی یہ سارے طنز یہ طعنے یہ رشتے ناطے سب کہاں چھپیں گے جو میری زبان نکلے ...

مزید پڑھیے

وہ بس رسہ کشی تھی

وہ بس رسہ کشی تھی محبت تھک چکی تھی دو کشتی میں ندی تھی زمیں ویران سی تھی اچانک کیا گھٹا تھا مجھے حیرانگی تھی نظر بھر اس نے دیکھا میں سمجھا پارکھی تھی کیا سونے کو مٹی غضب کوزہ گری تھی بچاتا کون ہم کو جبیں پر شل لکھی تھی ہمیں جس نے ڈبویا ہماری سادگی تھی مسافت ختم تھی پر تھکن ...

مزید پڑھیے

فیض سمجھے تھے جسے تھا وہ زیاں حیرت ہے

فیض سمجھے تھے جسے تھا وہ زیاں حیرت ہے یہ محبت ہی مرے دل کو گراں حیرت ہے گزرے لمحات کا آنکھوں میں پگھلنا حیرت اف تری یاد کی یہ طرز بیاں حیرت ہے ایک راجا نے اتاری تھی زمیں پر گنگا اک ندی دکھ میں ہے آنکھوں سے رواں حیرت ہے ہم جسے دنیا سمجھ بیٹھے تھے اک مدت سے شخص نکلا وہ فقط ایک گماں ...

مزید پڑھیے

مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوں

مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوں ہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوں میں مشت خاک ہوں گرد و غبار جیسا ہوں تمام وسعت عالم پہ پھر بھی چھایا ہوں قضا و قدر کا منظر مری نگاہ میں ہے حیات ور ہوں اجل سے نظر ملاتا ہوں یہ دہشتوں کے چھلاوے یہ آفتوں کے پہاڑ خدا کا شکر کہ اس دور میں بھی زندہ ...

مزید پڑھیے

جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہو

جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہو لذت کش حیات وفا بے خودی نہ ہو کیا وہ کریں گے جلوۂ جاناں کی آرزو جن کی نظر میں جرأت نظارگی نہ ہو گھبرا گیا ہوں زیست کی تلخی سے اس قدر اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہ ہو مانا خوشی میں ہوتا ہے بے خود ہر آدمی خود کو بھی بھول جاؤں میں ایسی خوشی نہ ہو آ ...

مزید پڑھیے

سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیں

سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیں یہ ایک مرگ مسلسل ہے انتظار نہیں کلی کے لب پہ تبسم کو ڈھونڈنے والو برائے نام بھی گلشن میں اب بہار نہیں ہمیں پہنچنے سے منزل پہ کون روکے گا ہماری راہ میں جب یاس کا غبار نہیں کرو وہ مشق کہ ہنستے رہو خزاں میں بھی گل و چمن میں بہاروں پہ اعتبار نہیں خدا ...

مزید پڑھیے

مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہے

مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہے محسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہے کیا غم بچھڑ گیا ہوں اگر کارواں سے میں تم ساتھ ہو تو ساتھ مرے کائنات ہے وہ مسکرا دیے تو ہے عالم ہی دوسرا روشن مری حیات کی تاریک رات ہے شاید ہے منتشر ابھی شیرازۂ وجود کیوں ورنہ آدمی سے گریزاں حیات ہے میں حادثات دہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4516 سے 6203