دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو
دل پر رکھو نگاہ جگر پر نظر کرو مقدور ہو تو ذات میں اپنی سفر کرو ہنگام خیر مقدم صبح نشاط ہے پروانہ وار شام سے رقص شرر کرو زنجیر توڑنا بھی بڑا کام تھا مگر فرصت میں ہو تو زینت دیوار و در کرو مایوس کن ہے عالم امکاں ابھی تو کیا دنیائے ممکنات پہ اپنی نظر کرو جو غم بھی دے حیات خوشی سے ...