ایسے درکنار ہو گئے
ایسے درکنار ہو گئے حاشیے کے پار ہو گئے کیا تھی وہ جدائی کی خبر لفظ تار تار ہو گئے برسوں بعد یہ پتا چلا ہم کہیں شکار ہو گئے تیرے بعد کیا بتائیں ہم کیسے بے حصار ہو گئے اک تری صدا نے کیا چھوا درد بے قطار ہو گئے
ایسے درکنار ہو گئے حاشیے کے پار ہو گئے کیا تھی وہ جدائی کی خبر لفظ تار تار ہو گئے برسوں بعد یہ پتا چلا ہم کہیں شکار ہو گئے تیرے بعد کیا بتائیں ہم کیسے بے حصار ہو گئے اک تری صدا نے کیا چھوا درد بے قطار ہو گئے
تیرے جلووں نے کیسی شرط رکھ دی کی خوشبو دیکھنے کی شرط رکھ دی پرندوں کا بسیرا اور چھتوں پر تو کیا پیڑوں نے کوئی شرط رکھ دی مرے مالک نے آنکھیں تو عطا کیں مگر ان میں نمی کی شرط رکھ دی پرندوں کی اڑانیں چھین لیں اور حدوں کو ناپنے کی شرط رکھ دی سبھی تھے ایکتا کے حق میں لیکن سبھی نے ...
شام سے ضد پر اڑے ہیں خواب پلکوں پر کھڑے ہیں یہ شکن آلود بستر نیند کے ٹکڑے پڑے ہیں رات کی کالی ردا میں قیمتی موتی جڑے ہیں رات بھر پاگل ہوا سے گھر کے دروازے لڑے ہیں ہو سکے تو سر جھکا لے وقت کے تیور کڑے ہیں
تیرے در تک آؤں میں آئینہ ہو جاؤں میں منزل اپنی ڈھونڈے وہ اور رستہ ہو جاؤں میں اس کا کوئی ذکر نا ہو اور رسوا ہو جاؤں میں سب کے دعوے واجب ہیں کس کے حصے آؤں میں تنہائی کو ساتھ لئے بھیڑ نہیں ہو جاؤں میں
کل جو اپنی تھی اب پرائی ہے بھولنے میں ہی کچھ بھلائی ہے جب سے سمجھے ہیں پیار کے معنی اس نے صورت نہیں دکھائی ہے دھوپ خوشبو کو بھی جلا دے گی خواب یہ آپ کا ہوائی ہے موت بھی زندگی کا حصہ ہے زندگی اک حسیں جدائی ہے قید آنکھوں میں کر لیا جس کو اس کے ہاتھوں میں اب رہائی ہے آنسوؤ کچھ تو ...
رشتہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بیچ کا راستہ نہیں ہوتا میں تیرا ہم نوا نہیں ہوتا کچھ اگر کام کا نہیں ہوتا فائدے فائدے کے چکر میں کچھ بھی تو فائدہ نہیں ہوتا ناخدا بھی تمہیں خدا بھی تم اب وہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بے وفائی دغا خیانت بھی عشق میں کچھ نیا نہیں ہوتا
اک نشہ سا مجھے ہوا کوئی آنکھ ان سے لڑا رہا کوئی کیا مرے پاس اب نہیں کچھ بھی کیوں نہیں کر رہا دغا کوئی غم مصیبت میں ساتھ دیتا ہے کاش ہو پھر سے حادثہ کوئی یاد تو آپ کو ہی کرتا ہوں یاد آتا ہے دوسرا کوئی
دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھ ہو دسترس تو کاٹیے دزد حنا کے ہاتھ اک تسمہ رہ گیا ہے رگ جاں کا لگا ہوا جھوٹا پڑا ہے آہ کہاں ان کا جا کے ہاتھ ہاتھوں پہ ہم کو ناگ کھلانے کی مشق ہے چھوتے ہیں ہم جبھی ترے گیسو بڑھا کے ہاتھ پھیلا لے پاؤں کھول کے دل اے شب فراق بیٹھے ہیں ہم بھی زیست سے ...
لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہ شکست توبہ ہی ہے یا نئی تعمیر مے خانہ ازل سے اس پہ رحمت ہے ابد تک اس پہ رحمت ہو رقم ہے خط جام بادہ میں تقدیر مے خانہ تو کیا اے زاہد خشک اس کی عظمت جان سکتا ہے قلم سے موج کوثر کے کھچی تصویر مے خانہ یہ مے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ ...
سارے عشاق سے ہم اچھے ہیں ہاں ترے سر کی قسم اچھے ہیں الجھا ہی رہنے دو زلفوں کو صنم جو نہ کھل جائیں بھرم اچھے ہیں کوئی جنچتا نہیں اس بت کے سوا اور بھی یوں تو صنم اچھے ہیں حشر تک مجھ کو جلائے رکھا یہ حسینوں کے بھی دم اچھے ہیں بحث ہو جائے تو سب پر کھل جائے ہیں بھلے آپ کہ ہم اچھے ...