شام سے ضد پر اڑے ہیں دیپک جین دیپ 07 ستمبر 2020 شیئر کریں شام سے ضد پر اڑے ہیں خواب پلکوں پر کھڑے ہیں یہ شکن آلود بستر نیند کے ٹکڑے پڑے ہیں رات کی کالی ردا میں قیمتی موتی جڑے ہیں رات بھر پاگل ہوا سے گھر کے دروازے لڑے ہیں ہو سکے تو سر جھکا لے وقت کے تیور کڑے ہیں