شام سے ضد پر اڑے ہیں

شام سے ضد پر اڑے ہیں
خواب پلکوں پر کھڑے ہیں


یہ شکن آلود بستر
نیند کے ٹکڑے پڑے ہیں


رات کی کالی ردا میں
قیمتی موتی جڑے ہیں


رات بھر پاگل ہوا سے
گھر کے دروازے لڑے ہیں


ہو سکے تو سر جھکا لے
وقت کے تیور کڑے ہیں