قومی زبان

پھول پتوں کا سلسلہ ہوگا

پھول پتوں کا سلسلہ ہوگا گھر ہمارا ہرا بھرا ہوگا جانے ور ہے کہ شاب ہے کوئی سب میں رہ کے بھی وہ جدا ہوگا بوجھ لگتا ہے دل پہ پربت سا دیکھ کر بھی وہ چپ رہا ہوگا اب ارادوں کی باگ کو کھولیں قافلہ تو گزر گیا ہوگا چاند سورج کو چھوڑ کر اک دن اپنے ہاتھوں میں اک دیا ہوگا جو لگائے گا سوچ ...

مزید پڑھیے

آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے

آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے تم حقیقت کے لیے وہم و گماں ڈھونڈو گے کون سی آس میں یہ سارا جہاں ڈھونڈو گے ایک آوارہ سی خوشبو کو کہاں ڈھونڈو گے ساتھ کچھ روز کا ہے راستہ چلتے لوگو ہم چلے جائیں گے قدموں کے نشاں ڈھونڈو گے تیر ترکش میں اگر بچ بھی گئے تو کیا ہے مل نہ پائے گی کہیں ...

مزید پڑھیے

ہلورے گنگناتی بالیوں کے

ہلورے گنگناتی بالیوں کے بناتے دائرے سرگوشیوں کے بہت ہیں وار تیکھے بجلیوں کے کٹیں گے پنکھ چنچل بدلیوں کے اکیلے آ گئے جانے کہاں ہم نشاں ملتے نہیں ہیں ساتھیوں کے افق پہ شام نے پٹکی ہیں بانہیں بکھیرے کانچ ٹکڑے چوڑیوں کے ڈبوئیں گے نگر کو ساتھ اپنے بھنور دل میں بنے ہیں باسیوں ...

مزید پڑھیے

پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کر

پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کر دل سوز غم نے خاک کیا پھونک پھونک کر چھڑکاؤ آب تیغ کا ہے کوئے یار میں پاؤں اس زمیں پہ رکھئے ذرا پھونک پھونک کر دیکھا نہ آنکھ بھر کے نظر کے خیال سے لیتے ہیں ہم تو نام ترا پھونک پھونک کر ہوگا نہ صاف جھوٹی ہوا خواہیوں سے دل یوں دل کا کب غبار ...

مزید پڑھیے

یہ اس کی نیند کو کیا ہو گیا ہے

یہ اس کی نیند کو کیا ہو گیا ہے مری آنکھوں میں شب بھر جاگتا ہے یہاں کیسے رہیں محفوظ چہرے یہاں ٹوٹا ہوا ہر آئنہ ہے یقیں اس بات کا اب تک نہیں ہے کہ میری پیاس سے دریا بڑا ہے دماغ و دل ہیں پہرے دار جیسے جو اک سوئے تو دوجا جاگتا ہے

مزید پڑھیے

ہواؤں میں بکھر جاؤں

ہواؤں میں بکھر جاؤں تجھے چھو کر گزر جاؤں تقاضے منتظر ہوں گے میں کیسے اپنے گھر جاؤں اتاروں قرض آئینہ تجھے دیکھوں سنور جاؤں سفر ہے تیری مرضی پر صدا دے تو ٹھہر جاؤں وہ اگلے موڑ پے گھر ہے وہ موڑ آئے تو گھر جاؤں

مزید پڑھیے

اپنے آپ کو یوں سمجھاتے رہتے ہیں

اپنے آپ کو یوں سمجھاتے رہتے ہیں امیدوں کے پر سہلاتے رہتے ہے اپنے گھر میں گھر جیسی اک بات تو ہے دکھ سکھ دونو آتے جاتے رہتے ہیں تصویروں کا شوق کہاں تک لے آیا پرچھائیں پے عکس بناتے رہتے ہیں اپنا ضبط نا ٹوٹے اس کے خاطر ہم دیواروں کو درد سناتے رہتے ہیں

مزید پڑھیے

لمحے تیری جدائی کے

لمحے تیری جدائی کے حصے ہیں تنہائی کے ایک ہی جیسے قصے ہیں شہرت اور رسوائی کے دھڑکن دھڑکن بجتے ہیں ساتوں سر شہنائی کے تیرے ظرف سے کتنے کم پیمانے گہرائی کے تیری یاد میں شامل ہی کچھ جھونکے پروائی کے

مزید پڑھیے

ادھورا ہی رہے ہر راستہ تو

ادھورا ہی رہے ہر راستہ تو نا پہنچے منزلوں تک سلسلہ تو جسے چاہیں وہی کھو جائے ہم سے ہمارے ساتھ پھر ایسا ہوا تو جہاں آوارگی بکھری پڑی ہو میں اس رستہ سے منزل پا گیا تو تجھے پانے میں خود کو بھول بیٹھا تجھے پا کر بھی میں تنہا رہا تو یقیں کر کے ترے پیچھے چلے ہیں نظر آئے نا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

کھونے کا ملال رہ گیا

کھونے کا ملال رہ گیا آئنے میں بال رہ گیا تیرے بعد اپنا مشغلہ غم کی دیکھ بھال رہ گیا تیرے اس ہنر کے سامنے میرا سب کمال رہ گیا پہلے تیرے رنگ تھے وہاں مکڑیوں کا جال رہ گیا

مزید پڑھیے
صفحہ 4483 سے 6203