کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے
کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے ہو وعدہ ایفا کہ ترک الفت یہ روزمرہ کی ٹال کیا ہے زبان بگڑی ہے آپ ہی کی ہمارا نقصان کیا ہے اس میں ذرا تمہیں پوچھوں دل سے اپنے بھلا یہ طرز مقال کیا ہے جو مانگا اک بوسہ میں نے ان سے تو بولے کیا تو سڑی ہوا ہے ذرا یہ باتیں سنو تو لوگو ...