قومی زبان

کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے

کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے ہو وعدہ ایفا کہ ترک الفت یہ روزمرہ کی ٹال کیا ہے زبان بگڑی ہے آپ ہی کی ہمارا نقصان کیا ہے اس میں ذرا تمہیں پوچھوں دل سے اپنے بھلا یہ طرز مقال کیا ہے جو مانگا اک بوسہ میں نے ان سے تو بولے کیا تو سڑی ہوا ہے ذرا یہ باتیں سنو تو لوگو ...

مزید پڑھیے

حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے

حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے جو طور پر ہوا تھا دل دیدہ ور میں ہے دیر و حرم میں کس لیے آوارہ گردیاں جس کی تجھے تلاش ہے وہ دل کے گھر میں ہے جو دیکھنے کی آنکھ ہے تجھ کو نہیں ملی وہ نور قد میں ورنہ شجر میں حجر میں ہے خاموشیوں میں محفل انجم کی اس کو دیکھ ہنگامہ مست کیوں تو نمود سحر ...

مزید پڑھیے

قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں

قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں ورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیں کوہ‌ و وادی وہی بجلی وہی بے ہوشی بھی جلوہ لیکن وہ دل افروز سر طور نہیں ڈھونڈنے جاؤں کسے جاؤں تو میں جاؤں کہاں دل کے جو پاس ہے وہ آنکھ بھی کچھ دور نہیں پھیر میں ذات و صفت کے نہ سراسیمہ ہو نہیں معلوم کہ جوہر ...

مزید پڑھیے

بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر

بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر چرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پر طشت از بام نہ کرنا کہیں راز الفت نہ اشارے کرو اے شوخ ادا کوٹھے پر ڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے بے تکلف نہ یوں کنکوے اڑا کوٹھے پر سب کو مہتاب کا دھوکا ہوا مہتابی پر کل سر شام وہ مہ رو جو چڑھا کوٹھے پر وہ ...

مزید پڑھیے

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن آفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دن دن سن یہ اور دن دئیے اللہ کی پناہ اس ماہ نے تو خوب ہی ہم سے گنائے دن ہے دم شماری دن کو تو اختر شماری شب اس طرح تو خدا نہ کسی کے کٹائے دن ان کی نظر پھری ہو تو کیا اپنے دن پھریں ابر سیہ گھرا ہو تو کیا منہ دکھائے دن جی ...

مزید پڑھیے

کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کر

کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کر وہ دیر و کعبہ میں ہے مقید خدا خدا کر خدا خدا کر سمجھ نہ تو اس کو بے نوائی یہ دو جہاں کی ہے بادشائی کہ دولت عشق ہاتھ آئی متاع دنیا و دیں لٹا کر جہاں کی کائنات کیا ہے امید عقبیٰ میں کیا دھرا ہے بری ہیں جو اس سے وہ نہ دیکھیں ادھر ذرا ...

مزید پڑھیے

مقصد حاصل نہیں ہو یا ہو

مقصد حاصل نہیں ہو یا ہو جو ہونا ہے جلد اے خدا ہو الفت ہے پاس وضع کا نام مرتے مر جاؤ پر نباہو دل میں نہیں خوب میل رکھنا جو شکوہ گلہ ہو برملا ہو کیا ہوتا ہے فرش بوریا سے لازم ہے کہ قلب بے ریا ہو اک جام ہی تو پلا دے للہ اے پیر مغاں تیرا بھلا ہو درکار اسے مدد ہے کس کی جس کو اللہ کا ...

مزید پڑھیے

دل کو جب حاصل صفائی ہو گئی

دل کو جب حاصل صفائی ہو گئی جلوہ گر بت میں خدائی ہو گئی ذکر وصل آ آ کے لب پر رہ گیا یہ بھی کیا عاشق کی آئی ہو گئی وار کیا شیطان کا اب چل سکے وہ بھی اک گندم نمائی ہو گئی نور ہر پتھر میں پایا طور کا چشم دل کو روشنائی ہو گئی بیچ سے پردہ دوئی کا اٹھ گیا تو خودی خود پھر خدائی ہو گئی

مزید پڑھیے

ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میں

ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میں عجب ہے خلد و جہنم ہیں متصل دل میں جو چپکے چپکے ہمیں کچھ کہے وہ اپ سنے پڑے اسی کو جو کوسے گا ہم کو دل دل میں کرو گے اب بھی برائی مئے مغاں کی شیخ نہ کہئے منہ سے مگر ہو گے تو خجل دل میں گئے وہ پانی تو ملتان اب گنو موجیں کہاں وہ جوش اب اے اشک پا بہ گل دل ...

مزید پڑھیے

یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ

یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ آخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤ صحبت لطف میں لو نام نہ غیروں کا کبھی دل میں عاشق کے نہ تم آگ لگاؤ آؤ بے‌ بنے ہی بہتوں کو ہے بگاڑا اس نے اپنی کاکل کو بہت اب نہ بناؤ آؤ پی بھی لو رہنے دو کوثر کی کہانی زاہد ایسی بے پر کی نہ یاروں سے اڑاؤ آؤ کیفیؔ چھوڑو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4485 سے 6203